خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد ۵ 195 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء جو ظلم اور سفا کی پولیس سے نہیں ہو سکتی وہ فوج ضرور کرلے گی ۔ اتنا کامل یقین تھا علماء کو اس بات پر کہ انہوں نے زور دیا اور وہ جانتے تھے کہ جو ہم چاہیں گئے فوج کے ذریعہ کروا سکتے ہیں۔ چنانچہ حکومت مجبور ہوئی اور فوج کے سپرد یہ مقدمہ کیا گیا ۔ حکومت سے مراد ہے وہاں کی سول انتظامیہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سب جھوٹ ہے فوج کے سپر دمقدمہ کرنے پہ پابند کر دی گئی۔ اس عرصہ میں جماعت کے مختلف وفود وہاں کے بڑے افسران سے ملتے رہے۔ مثلاً ڈپٹی کمشنر سے، ایس ایس پی سے اور دیگر افسروں سے رابطہ کیا اور ساتھ ساتھ ان ملاقاتوں کی رپورٹیں مجھے بھجواتے رہے۔ ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تمام افسر بلا استثناء جماعت کے وفود کو یہ بتا رہے تھے کہ اس سارے کیس پر ہماری نظر ہے، ہم نے خوب اچھی طرح چھان بین کر والی ہے اور سو فیصدی ہمیں یقین ہے کہ کسی احمدی کا قصور تو کیا کوئی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا کہ وہ اس جرم میں ملوث ہو۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ میں تو ساری جماعت احمدیہ کی تاریخ سے واقف ہوں ، ان کے مزاج اور کردار سے واقف ہوں اس لئے ویسے ہی اگر تحقیق نہ بھی کروائی ہوتی تو بھی میں یہی سمجھتا کہ کوئی شرارت ہوئی ہے، احمدی ایسی حرکت نہیں کر سکتے لیکن جب میں نے تحقیق کروائی تو اس تحقیق سے تو بالکل کھلم کھلا یہ بات سامنے آگئی کہ یہ ایک سازش ہے۔ اسی دوران ایک اور واقعہ پیش آیا اور وہ یہ کہ جماعت اسلامی کے سکول میں بھی ایک بم پھٹا لیکن اس وقت وہ بم چلانے والا پکڑا گیا اور وہ اسی سکول کا چوکیدار تھا۔ جب پولیس نے اس سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ اس سکول کا جو ہیڈ ماسٹر ہے اس کے ایماء پر میں نے چلایا تھا اور ایسے وقت میں چلایا تھا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو ۔ اس لئے میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ جماعت احمد یہ کو جب یہ علم ہوا تو فوری طور پر رابطہ کیا گیا افسروں سے اور بتایا گیا کہ اب دیکھ لو یہ دوسری کڑی تھی سازش کی جو خود ظاہر ہو گئی ہے اور صاف پتہ چل رہا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کس کا دماغ اور کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ لیکن علماء کو بھی پتہ چلا اس واقعہ کا اور ایک طرف علماء یہ جلوس نکال رہے تھے کہ یہ احمدی ہمارے مجرم ہیں ، انہوں نے بم چلایا ہے اس لئے ان کو گرفتار کیا جائے اور جتنے ہم کہیں اتنے گرفتار کرو، دوسری طرف یہ شور پڑ گیا کہ اس سکول والے بم کے معاملہ کو نظر انداز کر دو اور کچھ درج نہ کرو، کوئی واقعہ کی پورٹ ہی نہ درج کی جائے ، بالکل کا لعدم سمجھا جائے۔ چنانچہ علماء کے دباؤ کے نتیجہ