خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 14
خطبات طاہر جلد ۵ 14 خطبه جمعه ۳ جنوری ۱۹۸۶ء تو قدیر کہتے ہیں ایسی ذات کو جو پہلے ایک ماڈل بنائے اور اس ماڈل کے مطابق پھر دوسری چیزیں بنانی شروع کر دے۔ ایک چیز کو ملحوظ رکھے اور اس کے مطابق پھر اور چیزیں بنانی شروع کر دے۔ تو خدا تعالیٰ نے دنیا میں جتنی بھی زندگی کی شکلیں بنائی ہیں ان میں ان پہلوؤں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت ہمیں دکھائی دیتی ہے کہ ماڈل پہلے تیار کیا جاتا ہے پھر اس ماڈل کے آگے اسی جیسے اور بننے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ خدا کی صفت قدیر ہے جو اس نظام کو سنبھالے ہوئے ہے اور جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگر خدا قدیر نہ ہوتا تو زندگی کے اپنی شکل میں آگے جاری ہونے کے کوئی امکان نہ ہوتے۔ کیوں زندگی میں یہ طاقت ہے کہ وہ اپنی جیسی اور چیزیں پیدا کر سکتی ہے؟ یہ کوئی ذاتی صفت نہیں ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی قدیریت کا مظہر ہے۔ پس مومنوں میں بھی خدا تعالیٰ کے قدیر ہونے کی یہ شان پائی جانی چاہئے کہ وہ ایک چیز پر اتفاقی پیدائش پر بس نہ کریں بلکہ سلسلے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی سوچوں میں ایک ایسا تغیر پیدا کر دیں کہ گویا وہ خدا کی قدیریت کے مظہر بن کر صرف ایک چیز بنا کر راضی نہیں ہوں گے بلکہ نئے ڈیزائن دنیا کو دیں گے، نئے ماڈل دنیا کو دیں گے۔ جس علم سے بھی ان کا تعلق ہے اس علم میں ایسی باتیں پیدا کریں گے جس سے نمونہ پکڑ کر اور آگے پھر چیزیں پھیلنی شروع ہو جائیں۔ قَدَرَ الشَّيْءَ کا ایک معنی ہے کسی چیز کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس کا ایک وقت معین کیا ۔ اب اس سے دیکھیں کتنا حیرت انگیز اس صفت کا تمام تخلیق سے تعلق قائم ہو رہا ہے۔ خدا تعالیٰ کی تخلیق کا جو بھی پہلو آپ سوچیں کسی نہ کسی رنگ میں اس سے اسکی صفت قدیری کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں ایک سبق ہے۔ کوئی ایک چیز بھی خدا نے ایسی پیدا نہیں کی جس کے لئے وقت معین نہ کیا ہو۔ اس لئے یہ خیال کہ ہر چیز دائمی ہے یا کوئی چیز دائمی ہے یہ بالکل جھوٹا اور باطل خیال ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی چیز بھی دائمی نہیں ہے ۔ سوائے خدا کے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو وقت سے بالا ہو اور وقت ان معنوں میں کہ اس کے اندر جتنی بھی صفات پائی جاتی ہیں ان کا ایک معین وقت ہے ان کی جلوہ گری کا ایک معین وقت ہے اور کسی نہ کسی وقت آکر ان میں اجتماعی طور پر یا رفتہ رفتہ ایک کے بعد دوسری میں کمی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور بالآخر وہ انجام کو پہنچتی ہیں اور یہ انجام کو پہنچنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے ایک معین طریق پر اس کی ذات میں وہ بات گویا کہ ایک کمپیوٹر کی