خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 189
خطبات طاہر جلد ۵ 189 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء بنانا چاہتا ہے کہ وہ آسمان تک بھی اس کی شاخیں چلی جائیں۔ تو اس کی جڑوں میں کسی قسم کا تزلزل نہ آئے ، کوئی نقصان نہ پہنچے۔ لیکن یہ اب ہر بندے پر اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ اپنے لئے کیسا درخت بنا رہا ہے۔ ایک کہانی آپ نے بہت سنی ہوگی ۔ وہ غالباً سویڈن میں پہلی دفعہ بنی تھی مگر جہاں بھی بنی بنی تھی سب دنیا میں مشہور ہو چکی ہے کہ ایک Bean ( پھلی ) ایسی دیتا ہے کوئی کسی بچے کو کہ جب وہ اس کو کاشت کرتا ہے تو آسمان تک اس کی شاخیں پہنچ جاتی ہیں۔ وہ بیل چڑھتی ہے چڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ تو ہے تو وہ ایک کہانی اور لغوی بات ہے کبھی دنیا میں ایسا واقعہ نہیں ہوا لیکن قرآن کریم نے ایک ویسی ہی کہانی بیان فرمائی ہے لیکن وہ ہے سچی اور سوفی صدی سچی ۔ اس Bean کی کہانی کو پڑھ کر تو بچوں کے دلوں میں بڑی تحریک پیدا ہو جاتی ہے اور بڑے بھی بہت شوق سے سنتے ہیں لیکن یہ تقویٰ کی کہانی یہ بیج جو خدا نے قرآن کریم میں رکھ دیا ہے أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ اس کو پڑھتے ہیں اس کو سنتے ہیں اور دل میں کوئی تحریک پیدا نہیں ہوتی ۔ یہ جھوٹی زندگی، جھوٹی زندگی کے تصورات جھوٹی زندگی کی دلچسپی ملمع کی باتیں ہوں تو اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور جہاں حقیقتیں ہیں اور سچائیاں بیان ہوں وہاں اگر ایسے درخت کا راز آپ کو بتایا جائے کہ ا آج اس کا بیج بوئیں تو کل بھی یہ ممکن ہے کہ اس کی شاخیں آسماں سے باتیں کر رہی ہوں اور پھر آسمان سے ایسا رزق عطاہور ہا ہو کہ وہ کبھی نہ چھوڑے وہ ایسا رزق نہ ہو جو کسی موسم میں ملنا بند ہو جائے ۔ اور کسی موسم میں ملنا شروع ہو جائے ۔ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا (ابراہیم : ۲۶) اپنے رب کے حکم سے وہ ایک ایسار دخت بن جاتا ہے کہ ہر آن ہر حالت میں وہ پھل دیتا ہی چلا جاتا ہے یہ نقشہ جس درخت کا کھینچا گیا ہے اس کی طرف تو توجہ نہیں اور اس Bean کے قصے ساری دنیا میں ترجمے ہو ہو کر پھیل رہے ہیں کہ جو ایک فرضی Bean کی کہانی ہے وہ اگر بودی جائے تو اس بیل کی شاخیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں لیکن اس میں یہ بھی تو ساتھ لکھا ہوا ہے کہ پھر جب اس کو کاٹو تو کٹ بھی جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی آدمی آسماں سے باتیں کرتی ہوئی بیل پر چڑھا ہو اور نیچے سے کوئی کاٹ دے اور وہ دھڑام سے زمیں پر آجائے ۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے أَصْلُهَا ثَابِت وہ ایسی مضبوط رنگ میں پیوستہ ہوتی ہے کہ اس کے گرنے کا کوئی خطرہ