خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 152

خطبات طاہر جلد ۵ 152 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء جب بیوی کے آتے ہیں تو رونق آجاتی ہے گھر میں ، دوڑتی پھرتی ہے ، خدمتیں ہو رہی ہیں اور خوب لذتیں حاصل کی جا رہی ہیں ہر طرح کی مجلسیں لگتی ہیں اور خاوند کی بہن آجائے یا اس کی ماں آجائے تو اور خون کی بہن آجائے اس کی ماں آجائے تو یوں لگتا ہے جس طرح موت کی خبر آ گئی اور پھر وہ بدسلوکی کے سوطریقے اختیار کرتی ہے۔ عورت جہاں تسکین کا سامان بنتی ہے وہاں عدم تسکین کا بھی اتنا ہی سامان بن سکتی ہے۔ جس شخص میں تسکین پہنچانے کا مادہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہوا ہو تسکین چھینے کا مادہ بھی اس میں اتنا ہی پایا جاتا ہے۔اس لئے عورت اور مرد میں عورت جیسی تسکین نہیں پہنچا سکتا کوئی مرد اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن جب تسکین چھینا چاہے تو مرد کے مقابلہ پر عورت کو بہت زیادہ طریقے معلوم ہیں کہ کس طرح تسکین چھینی جاتی ہے۔ تسکین کی آماجگاہ کی بجائے گھر کو بے چینیوں کی آماجگاہ بنادیتی ہے اور عذاب بن جاتی ہے۔ خاوند تو بہ کرتا ہے کہ خدا کرے کہ میرا کوئی رشتہ دار نہ آئے یہاں پر کبھی ۔ عذاب الہی کی طرح اس کے رشتے دار اس گھر پر نازل ہونے لگتے ہیں۔ تو یہ سارا بنیادی قصور قرآن کریم کے بعض احکامات کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جو آیات چنیں سب سے پہلی یہ آیت ہے جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے۔ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا یہاں تک فرمایا کہ اگر تم رحمی رشتہ دراوں کو نظر انداز کرو گے تو خدا تم پر نگران ہے، وہ تمہیں ضرور پکڑے گا۔ اس لئے ان تمام امور میں ہمیں لازماً قرآن کی پناہ میں واپس جانا پڑے گا۔ ہمارا معاشرہ جہاں جہاں قرآن کی حدود پھلانگ کے باہر نکل چکا ہے اس کو تسکین مل ہی نہیں سکتی جب تک وہ واپس نہ آ جائے اور یہ خیال کہ ہمارا گھر ہے کوئی ہمیں اپنے گھر کے اندر کیوں کچھ کہتا ہے یا ہم اپنے گھر میں آزاد ہیں جو چاہیں کریں یہ غلط خیال ہے۔ قرآن کریم اس تصور کو رد کر رہا ہے۔ قرآن کریم ملکیت صرف خدا تعالیٰ کی بتاتا ہے اللهِ الْأَمْرُ (الرعد: ۳۲) صرف اللہ کا حکم ہے اور ہمارے پاس ہر چیز امانت ہے عارضی طور پر ہے۔ یہ خیال ہی غلط ہے کہ ہم آزاد ہیں اپنے گھروں میں جو چاہیں کرتے پھریں ہم ہرگز آزاد