خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 139

خطبات طاہر جلد ۵ 139 خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۸۶ء کے نظر آتا ہے کیونکہ بظاہر جنس کے نتیجے میں یا جنسی تعلقات کے نتیجہ میں صرف اولاد پیدا ہونی چاہئے اور اس سے زیادہ بظاہر کوئی مقصد نظر نہیں آتا ۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس مقام پر خدا اپنے رحمن بندوں کو دیکھنا چاہتا ہے اور دیکھتا ہے اس مقام پر ان رحمن بندوں کے منہ سے یہ دعا ئیں نکلتی ہیں کہ اے خدا! ہمیں صرف اولاد نہیں چاہئے ۔ ہمیں ایسی اولا د چاہئے جو متقی ہو۔ ہمیں صرف بیویاں نہیں چاہئیں ایسی بیویاں چاہئیں جو متقی ہوں اور ہماری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک کا سامان پیدا کرنے والی ہوں۔ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان پیدا کرنے کی دعا کے بعد یہ فرماناو اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا یہ بتاتا ہے کہ مومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک دراصل تقومی دیکھنے میں ہے، دین کو سدھر اہواد دیکھنے میں ہے۔ اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں۔ ه یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا در ثمین صفحه : ۴۸) آخری وقت میں میری یہ تمنا ہے کہ جاتے ہوئے میری نظر جب اپنی اولاد پر پڑے تو وہ متقی ہوں۔ بعینہ اسی آیت کے مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اردو میں دعائیہ رنگ دیا ہے۔ کے موعود دیا فرمايا أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُ وا چونکہ ان لوگوں نے صبر سے کام لیا ہے اس لئے ان کو جنت میں بالا خانے عطا کئے جائیں گے اور وہاں انہیں نیک تمناؤں، دعاؤں اور سلامتی کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا۔ دوسرا مقصد جو قرآن کریم سے ثابت ہے، وہ اعلیٰ رفاقت ہے اور تسکین قلب ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔ وَمِنْ أَيْتِهَ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۔ (الروم : ۲۲) کہ تمہارے اندر خدا تعالیٰ نے جو مودت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے ہیں ان کی تسکین کے لئے بیاہ شادی کا نظام بنایا گیا تا کہ تم ایک دوسرے سے سکینت حاصل کرو اور ایک دوسرے کی