خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد ۵ 119 خطبہ جمعہ ے فروری ۱۹۸۶ء کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی عورتیں صالحات میں نہ ہوں ۔ گو تھوڑی ہوں مگر ہوں گی ضرور ۔ جس نے عورت کو صالحہ بنانا ہو وہ خود صالح بنے۔ ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گاری کے لئے عورتوں کو پرہیز گاری سکھاویں ورنہ وہ گناہگار ہوں گیا اور جبکہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔ جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولاد بھی پلید ہو جاتی ہے۔ اولاد کا طیب ہونا تو طیبات کا سلسلہ چاہتا ہے اگر یہ نہ ہو تو پھر اولا دخراب ہوتی ہے اس لئے چاہئے کہ سب تو بہ کریں اور عورتوں کو اپنا نمونہ دکھلا دیں۔ عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے ۔ وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔ نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں۔ یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ احمق ہیں۔ وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثروں کو حاصل کرتی ہیں۔ جب خاوند سیدھے رستے پر ہوگا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی ۔ ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی نیک دنیا میں نہیں ہے اور وہ یہ اعتقاد کرے کہ یہ باریک سے باریک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔ جب عورت کا یہ اعتقاد ہو جاوے گا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے باہر رہے۔ سب انبیاء اولیاء کی عورتیں نیک تھیں اس لئے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔ جب مرد بد کار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں ۔ ایک چور کی بیوی کو یہ خیال کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں۔ خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے؟ الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ ( النساء: ۳۵) اسی لئے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی ۔ ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بد معاشی سے وہ حصہ لیں گی ۔“ ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۶۳ ۱۶۴) 66