خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 971
خطبات طاہر جلد ۴ 971 خطبه جمعه ۶ دسمبر ۱۹۸۵ء یعنی میں تو اپنے حسن کی آرائش سے فارغ ہی نہیں ہو رہا، ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمیشہ نقاب کے اندر ایک آئینہ ہے جو میرے پیش نظر ہے۔ غالب نے جو دنیا کے محبوب کے متعلق یہ کہا ہے اس پر تو یہ مضمون صادق نہیں آ سکتا کیونکہ نقاب کے اندر آئینہ ہمیشہ رہ ہی نہیں سکتا۔ نقاب کے اندر جو تزئین کرتا ہے آرائش کرتا ہے وہ تو نقاب اٹھا کر دکھانے کی خاطر کیا کرتا ہے۔ لیکن ایک مومن کے اوپر یہ ضرور صادق آجاتا ہے۔ مومن اپنی تزیین نقاب کے اندر رہ کر کرنا چاہتا ہے۔ نماز کا اخفاء سے ایک گہرا تعلق ہے تبھی قرآن قریم دکھاوے کی نمازوں کو رد کرتا ہے اور ان پر لعنت ڈالتا ہے۔ تو نماز کے مضمون پر تو یہ شعر بہت ہی عمدگی سے صادق آتا ہے۔ ایک مومن جب اپنی نمازوں کی آرائش میں مصروف ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر یقینا یہ مضمون صادق آتا ہے کہ ہمیشہ دائم اس کے نقاب کے اندر لوگوں کی نظروں سے مخفی ایک آئینہ ہے جس میں وہ منہ دیکھتا چلا جا رہا ہے اور اپنے چہرے کو زیادہ حسین بناتا چلا جا رہا ہے۔ خدا کرے کہ جماعت احمدیہ کو اس قسم کی نمازوں کو قائم کرنے کی توفیق ملے ۔ بڑی کثرت کے ساتھ صاحب لقاء ہم میں پیدا ہو جائیں جو خدا کی طرف بڑھنے لگیں اور خدا کو دیکھنے لگیں اور اس کا لطف محسوس کرنے لگیں ۔ اس کے حسن کی لذت میں زیادہ جذب ہونے لگیں یہاں تک کہ وہ مقام آجائے کہ خدا ان سے بولنے لگے ہمیں صرف سننے والا خدا نہ ملے بلکہ بولنے والا خدا میسر آجائے۔