خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 941 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 941

خطبات طاہر جلد۴ 941 خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۸۵ء میں اپنی چند روٹیوں کی محافظت کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور اپنے کسی قدر پانی کو جان کے ساتھ رکھتا ہے جو اس کی مشک میں ہے۔ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد ۳ صفحہ نمبر : ۳۷۱) یہ جو نماز ہے یہ تو ایک بہت ہی اعلیٰ درجہ کا مقام ہے اور اس نماز کی راہ میں ، اس نماز تک پہنچنے کے لئے بہت سی مشکلات ہیں ، بہت سی روکیں ہیں اور ایک مبتدی کے لئے جگہ جگہ ٹھوکر کے سامان بھی ہیں۔ لیکن پہنچنا ہمیں اس نماز تک ہی ہے۔ ٹھوکریں ہوں تب بھی اس نماز تک ہمیں پہنچنا الله ہے کیونکہ یہی زندگی کا مقصود ہے اور اس کے بغیر ہم اپنے اعلیٰ مقصد زندگی کو پانہیں سکتے ۔ ایک دفعہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس ایک اندھا آیا اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے نماز باجماعت ادا کرنے سے رخصت عطا فرمادیں کیونکہ رات کے وقت اور خصوصاً صبح کے وقت میرے لئے مشکل ہوتی ہے اور خاص طور پر اس لئے بھی کہ میں اندھا ہوں اور مدینہ کی وہ سڑک جو میرے گھر سے مسجد تک جاتی ہے۔ اس میں جگہ جگہ ٹھوکریں لگی ہوئی ہیں مجھے ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے پہلے اجازت دی اور جب وہ واپس مڑے تو پھر بلایا اور فرمایا نہیں مسجد میں جانے سے کوئی روک تمہاری راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئے (مسلم کتاب المساجد و مواقع الصلوۃ حدیث نمبر ۱۰۴۴) مسجد تک پہنچنے کی راہ میں خواہ ظاہری کتنی بھی روکیں ہوں تمہیں میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ۔ یعنی یہ فقرہ اس طرح تو نہیں فرمایا لیکن اس پس منظر میں فرمایا جو سوال اٹھایا گیا تھا کہ فرمایا نہیں تمہیں اجازت نہیں ہے۔ گویا یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ مسجد اور انسان کا تعلق ایسا ہے کہ راہ کی روکیں اس کی نمازوں کو اس سے الگ نہیں کر سکتیں اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتیں ۔ تو یہ وہ نماز ہے جو اعلیٰ نماز ہے اس کی راہ میں اور اکثر مومنوں کی راہ میں بہت سی روکیں ہیں لیکن ان روکوں کے نتیجے میں بھی بہر حال آپ کو وہاں تک پہنچنا ہو گا کیونکہ یہ مقصد زندگی ہے۔ کیسے وہاں پہنچیں اور کس طرح اس حقیقت کو پہچانیں اور اس حقیقت سے پیار کریں اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حقیقت نماز ہے؟ یہ مسئلہ بھی ایک عارف باللہ ہی ہے جو ہمیں سمجھا سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بار ہا قلم اٹھایا ہے اور ملفوظات میں بھی بکثرت نماز کی محبت پیدا کرنے ، نماز سے پیار کرنے ، نماز کے مقام اور مرتبہ کو بڑھانے اور