خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 927
خطبات طاہر جلد چہارم 927 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۸۵ء جو خدا تعالیٰ کو کھینچے اپنی طرف وہ خدا ہی کا حسن ہے۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ خدا کے لئے اپنی ذات کی خاطر جذب پیدا کرنا چاہتے ہیں تو حسن بھی خدا ہی سے مانگنا پڑے گا ۔ صفات باری تعالیٰ اسکی اپنائیں گے تو آپ کی ذات میں وہ حسن پیدا ہو گا جو اللہ کے لئے باعث کشش ہے۔ جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ دوسرا پہلو تو حید کا جو اس میں بیان فرمایا گیا ہے۔ نماز کو توحید سے ایک گہرا تعلق بتایا گیا ہے یہ مضمون بھی وضاحت طلب ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں افضل الذکر لا سے افضل اله الا الله ( سنن ترندی کتاب الـ ن ترندی کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۵ بیث نمبر : ۳۳۰۵) کہ سارے ذکروں میں سب سے اُ یا لا الہ الا اللہ ہے اور وہاں محمد رسول اللہ کا ذکر نہیں فرمایا۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے یہ تحریک فرمائی کے کثرت کے ساتھ لا الہ الا اللہ کا ذکر کیا جائے ۔ تو احمدیوں نے جگہ جگہ بیج لگا کے لکھا ، بورڈوں پر آویزاں کیا اور کثرت کے ساتھ اونچی آواز میں بھی پڑھنے لگے۔ بہت سے غیر از جماعت دوست چونکہ ذاتی طور پر دین کا علم نہیں رکھتے اور ان کا دین اتنا ہی ہے جو مولوی کے ذہن میں ہے اس لئے ان کو اس پر بڑا تعجب بھی ہوا اور بڑا سخت حملے کا بھی موقع ملا۔ چنانچہ کثرت سے جماعت پر یہ اعتراض شروع ہو گیا کہ دیکھا ہمارے مولوی سچ کہتے تھے کہ آپ اللہ کی توحید تک کا ہی مذہب رکھتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے آپ کا مذہب صرف توحید پرختم ہو جاتا ہے اور اگلا ضروری قدم جو تشہد کا ہے اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا رسول اللہ وہ آپ نہیں اٹھاتے ثابت ہوا کہ آپ مسلمان نہیں ہیں اور یہ اعتراض عام جہلاء ہی نہیں کرتے تھے بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ کرتے تھے ۔ ہر سوسائٹی ، ہر طبقہ کے غیر احمد یوں نے احمدی دوستوں پر یہ اعتراض کیا حالانکہ یہ خود ان کی لاعلمی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ذکر فرمایا ہے تو ذکر تو صرف خدا کا ہوتا ہے اس ذکر میں رسول شامل نہیں ہوا کرتا۔ ذکر اور چیز ہے اور کلمہ توحید جو مسلمان ہونے کے لئے پڑھنا ضروری ہے وہ ایک اور چیز ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر تو خدا سے کوئی محبت نہیں رکھتا تھا اور آپ نے یہ ہمیں راز سکھایا کہ جب ذکر کی بات ہو تو خدا کی توحید کے سوا اس میں کسی چیز کو شامل نہیں کرنا۔ خالص توحید الہی کے ذریعہ ذکر ہوتا ہے اور یہاں بھی جہاں نمازوں کا ذکر ملتا ہے قرآن کریم میں وہاں اس کا توحید