خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 86

خطبات طاہر جلد ۴ 86 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء رائفلیں دیں گے اور اتنے ہزار پونڈ دیں گے اور یہ یہ تمہارے حقوق ہیں اور یہ یہ ہمارے حقوق ہیں ۔ پس یہ لوگ جلد بازی سے جو نا واجب حرکتیں کرتے ہیں ہمیں نہیں کرنی چاہئیں بلکہ جواب میں بھی انصاف سے کام لینا چاہئے اس لئے میرے نزدیک فرقہ کے لحاظ سے خواہ یہ اپنے منہ سے تسلیم بھی کریں دوسری قومیں اس طرح فرقوں کی بنیاد نہیں ڈالا کرتیں اس کی اپنی ایک آزاد تاریخ ہے۔ مولانا محمد بن عبدالوھاب صاحب نے شرک کے خلاف جہاد شروع کیا اور پھر اس پر زور دیتے دیتے دوسری انتہا تک بھی پہنچ گئے لیکن تحریک وہابیت کو جب یہ دوسرے لوگ اس وجہ سے انگریز کا خود کاشتہ پودا کہتے ہیں کہ ان کو ایک تاریخی دور میں انگریزوں کی حمایت حاصل رہی ہے یہ درست نہیں ہے ۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے یہ آزاد ہیں مگر انگریزوں نے ان سے استفادہ ضرور کیا ہے اور آج بھی کر رہا ہے، کل بھی کر رہا تھا۔ کانگریس کے دوران ہندو بھی ان سے استفادہ کرتے رہے ہیں لہذا یہ لوگ ان کے آلہ کار ضرور بنے ہیں اور اب بھی بن رہے ہیں۔ وہی سازش ہے وہی لوگ ہیں جو دوسروں کے آلہ کار بن جایا کرتے ہیں لیکن یہ کہ مذہبی عقیدہ کی بنیا د انگریز نے ڈالی ، یہ غلط ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر یہ باتیں درست ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واقعہ اپنے خاندان کو انگریز کا خود کاشتہ پودا کہا تھا احمدیت کو نہیں کہا تھا تو اس کا کیا ثبوت ہے کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خود کاشتہ پودا کا حوالہ موجود ہے تم کہتے ہو خاندان کی بات ہو رہی تھی ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خاندان، جماعت احمد یہ اور آپ خود سارے اس میں شامل تھے اس لئے کوئی قطعی ثبوت ہونا چاہئے کہ جماعت احمد یہ کس کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا اعتراف کرتے ہیں وہ تحریریں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں ۔ آپ فرماتے ہیں: دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔ میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔اے لوگو ! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے