خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 915 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 915

خطبات طاہر جلد ۴ آپ سے توقعات اور قسم کی ہیں ۔ 915 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء ان ساری برائیوں کا جن کا میں نے ذکر کیا ہے سد باب کرنا بحیثیت مجموعی جماعت احمد یہ کا کام ہے اور آپ میں سے ہر فرد بشر کا کام ہے اس لئے قول سدید کا دامن پکڑ لیں۔ جب آپ بات کہنے لگیں تو اپنے نفس کا تجزیہ بھی کیا کریں کہ میں کیوں یہ بات کہہ رہا ہوں ۔ بسا اوقات آپ محسوس و کر لیں گے اگر تقوی کے ساتھ اپنا تجزیہ کریں گے کہ آپ کی بات میں کوئی کھی تھی ۔ بسا اوقات آپ فیصلہ کر لیں گے کہ نہیں ! چھوڑ ہی دو اس بات کو مزہ نہیں آیا اس بات میں ۔ اس بات میں وہ حسن نہیں ہے جو اسلام مجھ سے چاہتا ہے۔ پھر جب آپ سے کوئی بات کہی جائے تو بالکل اس کے برعکس مخالف پر حسن ظنی کی کوشش کریں اور اپنے اوپر بدظنی رکھیں اس معاملے میں کہ ہاں ہوسکتا ہے مجھے پتہ نہ ہو۔ ہو سکتا ہے میری برائیاں مجھ میں چھپی ہوئی ہوں اور میں تلاش کروں اور کریدوں تو وہ نکل آئیں ۔ مگر نصیحت کرنے والے کو میں نے صرف شکریہ کہنا ہے ، اس کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی ۔ یہ رحجان پیدا کریں اور بسا اوقات آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ اندر برائیاں ہوتی ہیں۔ انسان کو بے وجہ دفاع کرنے کی ایسی گندی عادت پڑ جاتی ہے کہ اس کی فطرت ثانیہ ہو جاتی ہے ۔ وہ برائی اپنے اندر رکھتے ہوئے بھی پہلا رد عمل یہ دکھاتا ہے کہ نہیں مجھ میں نہیں میں نے جو یہ بات کی ہے۔ بالکل نہیں مجھ میں تو ایسی بات کوئی نہیں ، عادت بن جاتی ہے۔ تو معاشرہ کی اصلاح کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے آپ کی حکمت کو بھی تیز ہونا پڑے گا ۔ تجزیے کی طاقتوں کو آپ کو صیقل کرنا پڑے گا۔ تقویٰ اختیار کرنا پڑے گا۔ یا د رکھیں آخری بات یہ ہے کہ خالی قول سدید کوئی چیز نہیں ہے جب تک تقویٰ کے ساتھ اس کا پیوند نہ ہو۔ یہ جتنی باتیں میں نے کہی ہیں قول سدید کے نام پر تقویٰ کے ساتھ تعلق رکھیں تو اصلاح معاشرہ ہوتی ہے ورنہ نہیں ہوتی ۔ چنانچہ آپ یہ معلوم کر کے تعجب کریں گے کہ وہ قو میں جن میں بہت بدیاں پھیلی ہوئی ہیں مثلاً شمالی یورپ ہے اس میں قول سدید کا معیار ہماری قوموں کی نسبت بہت اونچا ہے ۔ انگلستان میں بھی ، جرمنی میں بھی ، سکینڈے نیوین ممالک میں بھی اور کئی قومیں ہیں جن میں قول سدید کا معیار اکثر مشرقی قوموں کی نسبت بہت اونچا ہے لیکن برائیاں پھر بھی ہیں۔ تو یہ آخری بات ہمیشہ مد نظر رکھیں کہ قول سدید فی ذاتہ برائیاں دور کرنے کا اہل نہیں ہوتا