خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 913
خطبات طاہر جلد ۴ 913 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء شکایتوں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ جب شادی ہوئی تھی تو ہمیں یہ بتایا گیا تھا اور اب یہ نکلا۔ کبھی بیوی شکایت کرتی ہے، کبھی خاوند یہ شکایت کرتا ہے کہ فلاں بیماری ہم سے چھپائی گئی ۔ اب جب یہ گھر آئی تو پتہ لگا کہ اس بیماری میں ملوث ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو میری طبیعت اس کو برداشت نہیں کر سکتی ۔ میں کیا کر سکتا ہوں ۔ بعض دفعہ بتایا جاتا ہے کہ یہ کہا گیا تھا کہ مالی لحاظ سے یہ حیثیت رکھتا ہے اور بڑے سبز باغ دکھائے گئے تھے۔ جب ہم نے شادی کر لی تو پتہ چلا کہ بالکل بر عکس قصہ ہے۔ تو ایسے معاملات بھی ہیں جس کی وجہ بہت سے گھر دکھوں کا گہوراہ بن گئے ہیں۔ اور بعض بچیاں ہیں بے چاری ان کی زندگی اس طرح کٹ رہی ہے کہ ایک بچہ یا ایک بیٹی ہے وہی ان کی امیدیں ہیں ، وہی ان کی زندگی کا سرمایہ ہے ، وہی ان کا بالآخر دلداری کا کوئی سہارا ہے اور باپ ہیں جو اس معاملے میں بھی ان کو دکھ دینے سے باز ہی نہیں آرہے۔ بچے کے ذریعے مسلسل تکلیف دیتے چلے جارہے ہیں ۔ حالانکہ قرآن کریم نے بالکل صاف طور پر فرمایا ہے کہ کوئی والدین میں سے ایسا نہ ہو جس کو اس کے بچے کی طرف سے تکلیف دی جائے۔ بچے کی طرف سے تکلیف ایک بہت ہی زیادہ گہر از خم ڈالنے والی تکلیف ہے، گہرا زخم لگانے والی تکلیف ہے۔ اس لئے اس کی احتیاط کرنی چاہئے۔ میں نے دیکھا ہے بعض خاوند جو بیویوں سے علیحدہ ہو جاتے ہیں، وہ دوسری شادیاں بھی کر لیتے ہیں ان کی اولاد بھی ہو جاتی ہے لیکن بغیر وجہ کے محض اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں قانون ہمیں حق دیتا ہے وہ اصرار کر کے تکلیف دے کر ماں سے بچوں کو علیحدہ کرتے ہیں۔ وہ حق ایک الگ بات ہے، انسانیت اور تقویٰ اور شرافت اور حسن و احسان کا سلوک ایک الگ معاملہ ہے۔ قاضی کے سامنے جب یہم ۔ یہ معاملہ جائے گا تو بعض دفعہ قاضی قانوناً یہ فیصلہ دینے پر مجبور ہوگا لیکن صرف انصاف کا معاملہ تو کوئی چیز نہیں ہے۔ قرآن کریم انصاف پر کہاں ٹھہرتا ہے قرآن کریم تو اس انصاف کے مضمون سے نکل کر معاشرہ کو حسن واحسان کے مضمون میں داخل کر دیتا ہے، قرآن کریم تو حسن و احسان کے مضمون سے آگے قدم بڑھا کر معاشرے کو ایتاءِ ذِی القربی کے مضمون میں داخل کر دیتا ہے آپ اس وقت وہ ساری باتیں بھول جاتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ کا مستقبل ہے آپ کے دل لگانے کے سامان ہیں ، آپ کے اور ذرائع ہیں ، اس بے چاری کے پاس اور کچھ بھی نہیں رہا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ۔ ہاں اگر نیکی اور بدی کا معاملہ ہوا گر یہ