خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 883
خطبات طاہر جلد۴ 883 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء احمدی ہوئے تھے اور غیر احمدیت سے احمدیت میں داخل ہونے کے بعد جو ابتدائی دکھوں کا دور آتا ہے اس چکی میں سے وہ گزرے نہیں اور وہ تربیت حاصل نہیں کر سکے جو پہلے زمانے میں صحابہ کو حاصل تھی یا بعد میں اول تابعین کو حاصل تھی اس لئے وہ نسلاً احمدی رہ گئے اور معاشرے کی خرابیوں نے ان پر زیادہ گہرا اثر کیا۔ چنانچہ بہت سے اضلاع ہیں پاکستان میں جہاں بھاری تعداد میں جماعت موجود ہے مگر ان کی اولادوں میں ان کی جوان نسلوں میں بہت سی ایسی خامیاں رہ گئی ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسے بعض اضلاع بھی میرے ذہن میں ہیں اور وہ اسلام کی فتوحات کے نئے علاقے بھی میرے ذہن میں ہیں مثلاً افریقہ کے ممالک جن میں بعض جگہوں پر بڑی تیزی کے ساتھ احمدیت میلی ہے بعض صورتوں میں قبائل کے قبائل احمدی ہوئے ہیں۔ بعض صورتوں میں دیہات احمدی ہوئے ہیں پورے کے پورے اور بعد ازاں ان کی تربیت کا پورا موقع نہیں مل سکا۔ دور کے بعض جزائر ہیں وہاں بھی یہی کیفیت ہوئی۔ چنانچه تربیتی خلا پاکستان میں بھی ہیں اور پاکستان سے باہر بھی ہیں اور عظیم غلبہ سے پہلے ان کمزوریوں کا دور ہونا لازمی ہے۔ اگر ان کمزوریوں کو دور کئے بغیر ہمیں فتح و نصرت عطا ہو جائے یعنی فتح و نصرت کا وہ تصور مل جائے جو عام لوگ رکھتے ہیں ۔ ایک فتح تو وہ ہے جو ہمیں مسلسل ملتی چلی جا رہی ہے، ایک نصرت تو وہ ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑ رہی مگر میں اس وقت اس کی بات نہیں کر رہا، میں عرف عام میں جسے فتح و نصرت کہا جاتا ہے یعنی ایک جگہ عددی غلبہ اتنا نصیب ہو جائے کہ اس کے بعد امن سے بیٹھ جائیں ۔ اس فتح و نصرت کے لئے یہ : لئے یہ تیاریاں ضروری ہیں اور یہ دکھوں کا دوران تیاریوں میں مدد کرنے کے لئے آیا ہے اور مدد کر رہا ہے۔ لیکن اس سے ابھی مزید استفادے کی ضرورت ہے منتظم طور پر اس تربیت کے کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور پھیلانے کی ضرورت ہے اور پھر اس میں گہرائی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تین سمتوں میں ہمیں ابھی اس کام کو آگے بڑھانا ہے اور سب سے اہم سب سے زیادہ بنیادی اور مرکزی چیز نماز ہے۔ قیام نماز میں ابھی وسعت کی بھی ضرورت ہے اور بہت زیادہ ضرورت ہے اور مرتبہ نماز کے لحاظ سے اس میں بلندی کی بھی ضرورت ہے اور نفس میں ڈوب کر مطالب میں جذب ہو کر نماز پڑھنے کے لحاظ سے اس میں ابھی گہرائی کی بھی بہت ضرورت ہے اور اس لحاظ سے