خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 82

خطبات طاہر جلد ۴ 82 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء کر سکتا کہ جماعت احمدیہ پر انگریز نے خرچ کی ہو یا خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر خرچ کی ہو یا انہیں کوئی خطاب ہی دیا ہو جب کہ علامہ اقبال ”سر“ بن گئے اور ان کے علماء بڑے ے خطابات سے نوازے گئے اور جائیدادیں حاصل کرتے رہے، مرادیں پاتے رہے، انگریزوں سے تنخواہیں لیتے رہے۔ یہ سارے تو گویا انگریز کے دشمن اور مجاہد اول تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت جو خدا کی خاطر انتہائی قربانیاں کرتے ہوئے صرف اپنے اور اپنے اموال پر انحصار کر رہی ہے اور کبھی کسی حکومت سے ایک آنہ بھی اس نے اورا Resources حاصل نہیں کیا یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ٹھہرے؟ حقیقت حال تو کبھی چھپی نہیں رہتی اللہ تعالیٰ نے خود مخالفین ہی کی زبانوں سے ان کے اپنے فرقوں سے متعلق یہ الفاظ استعمال کروا دیئے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان میں تو جماعت کے متعلق کوئی ذکر ہی نہیں ہے لیکن ان لوگوں نے ایک دوسرے کے فرقوں سے متعلق یہی محاورہ استعمال کرنا شروع کیا چنانچہ خدا کی طرف سے عجیب انتقام ہے کہ چٹان (لاہور ) اپنی اشاعت ۱۵ راکتو بر ۱۹۶۲ء میں بریلویوں کے متعلق لکھتا ہے : ہے: دو انگریزوں کے اولی الامر ہونے کا اعلان کیا اور فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالاسلام ہے انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا کچھ دنوں بعد ایک مذہبی تحریک بن گیا اب بتائیے ! کچھ شک و شبہ ہے کہ یہ ذاتی بات ہو رہی ہے یا ایک جماعت کی بات ہو رہی ہے؟ اس کا جواب سنئے جو ایڈیٹر صاحب طوفان نے لکھا:۔ ں نے بڑی ہوشیاری اور چالا کی کے ساتھ تحریک نجدیت کا پودا (یعنی اہل حدیث جسے وھابی تحریک یا تحریک نجدیت بھی کہتے ہیں ) ہندوستان میں بھی کاشت کیا اور پھر اسے اپنے ہاتھ سے ہی پروان چڑھایا۔ * پندرہ روزہ طوفان ملتان ۷ نومبر ۱۹۶۲ء ) پس یہ تو اور خود کاشتہ پودے نمودار ہو گئے جہاں تک الزام تراشی کا تعلق ہے یہ تو کوئی دلیل نہیں ہے جس طرح ہمارے خلاف جب الزام تراشی کرتے ہیں تو ہم اس کو دلیل نہیں سمجھتے اسی طرح