خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 881
خطبات طاہر جلد ۴ 881 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء قیام نماز کے ذریعہ غلبہ احمدیت کی تیاری کریں ( خطبه جمعه فرموده ۸ نومبر ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل قرآنی آیت تلاوت کی : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر :١٩) پھر فرمایا: صلى الله سیدنا و مولانا حضرت ا رت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کیا کہ صلى الله یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ آنحضور ﷺ نے جواباً فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی صلى الله ہے؟ سوال تو یہ تھا کہ کب آئے گی اور جواب یہ ہے کہ کیا تیاری کی ہے؟ تو بعض اوقات آنے والی چیز کا انتظار اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا اس کی تیاری اہمیت رکھتی ہے اس لئے نہایت ہی حکیمانہ اسلوب تھا آنحضور علی کا آپ نے اصل سوال کو چھوڑ کر جو ادنی اہمیت کا سوال تھا اس سے بڑی اہمیت کے سوال کا جواب دیا اور فرمایا کہ تم نے تیاری کیا کی ہے؟ قیامت تو کوئی ایسا تماشہ نہیں ہے کہ جس کو تم دیکھو اور خوش ہو جاؤ اور تمہاری ذات کی تیاری کا اس سے تعلق کوئی نہ ہو اس لئے قیامت سے تو یہ خوف رکھنا چاہئے کہ جلدی نہ آجائے ، ہماری تیاری سے پہلے نہ آجائے۔ پس بہت سے احمدی احباب جب مجھے یہ لکھتے ہیں یا مجھ سے پوچھتے ہیں کہ احمدیت اور اسلام کی فتح اور غلبہ کا دن کب آئے گا تو میرا ذہن بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اس جواب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو ایک سوال کی صورت رکھتا ہے کہ تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے؟