خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 867 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 867

خطبات طاہر جلد ۴ 867 خطبه جمعه ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء ہے یعنی آج کل کے معیار کے لحاظ سے اگر اس وقت کوئی پانچ روپے دیتا تھا تو بہت بڑی چیز تھی آج ہزار بھی دے تو اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں ہے تو ہزار آدمیوں کا کھاتہ زندہ کرنے کے لئے پانچ ہزار روپے سالانہ چاہئیں اور اس سے کئی گنا زیادہ چندہ دینے والے خدا کے فضل سے جماعت میں موجود ہیں۔ تو اگر اس طرح کے کھاتے زندہ کرنے ہوں تو ہزار نام تو آسانی کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ زندہ میں عہد کروں گا کہ ضرور پورا کروں ۔ باقی احباب بھی توجہ کریں گے تو انشاء اللہ یہ سارے کھا۔ ہو جائیں گے۔ خدا کے حضور ہمیشہ کیلئے تو پہلے ہی زندہ ہیں مگر ان کی یادیں بھی زندہ ہوں گی ، ان کے لئے دعاؤں کی تحریکیں بھی زندہ ہوں گی۔ اندازہ لگائیں آج سے ہزار سال کے بعد قادیان کے یا ہندوستان کے وہ چند چندہ دینے والے ایسے ہوں گے جن کے نام پر چندے دیئے جا رہے ہوں گیا۔ ایک عجیب بے نظیر بات ہوگی ۔ حیرت سے دنیا ان لوگوں کو دیکھے گی کہ جن کے کھاتے ان کی وفات سے ہزار سال بعد بھی زندہ ہیں اور چلتے چلے جارہے ہیں اور کبھی نہیں مرتے۔ اور پھر ان کے لئے دعاؤں کی تحریکیں بھی پیدا ہوں گی۔ جماعت کی جو قربانیوں کا معاملہ ہے یہ تو اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس خطبہ میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس کا حق ادا کیا جاسکے ۔ مجھے زبانی پچھلے سال سے لے کر اب تک کی باتیں یاد ہیں قربانی کی وہی بہت وسیع ہیں۔ حیرت انگیز رنگ میں جماعت کے بچے عورتیں ، بوڑھے، جوان قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ میں ان کا ذکر بھی کر دیتا رہا ہوں جماعت کے علم میں آئے اور تحریک پیدا ہو اور بعض دفعہ ذکر نہیں بھی کرتا تا کہ اخفاء کا حق بھی پورا ہو جائے کیونکہ اگر مسلسل ذکر کیا جائے تو اس سے بعض کمزور طبیعتوں میں یہ رحجان بھی پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھیں کہ بڑی شہرت ہو رہی ہے ایسی قربانیوں کی ہم بھی قربانیوں کریں اور ہمارا نام بھی نمایاں طور پر لوگوں کے سامنے آئے ۔ اگر چہ میں نام لینے سے عموماً احتراز کرتا ہوں مگر پھر بھی وہ لوگ نمایاں ہو جاتے ہیں اور اس بات کا رحجان پیدا ہو سکتا ہے تو مجھے احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ کثرت سے ان قربانیوں کا ذکر کروں جماعت میں مشتہر ہوں اور نئی تحریکیں دلوں میں پیدا ہوں ۔ کبھی اخفاء سے بھی کام لینا پڑتا ہے تا کہ آیت کے اس مضمون کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ اگر تم اس کو چھپاؤ گے تو فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہوگا کیونکہ اصلاح نفس کے لحاظ سے چھپی ہوئی قربانی کا درجہ کھلی قربانی کے