خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 855 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 855

خطبات طاہر جلد۴ 855 خطبه جمعه ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء بدار ا دوں کے ساتھ بد مقاصد کے لئے خرچ کرنے والوں میں تمیز نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ فرمایا: ج إنْ تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَّاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اب یہ مضمون پہلی آیات کے مضمون کو دو طرح سے کھول رہا ہے۔ ایسا حسین ربط ہے کہ انسان قرآن کریم کے انداز بیان کو حیرت سے دیکھتا ہے۔ اس آیت کا پہلا ٹکڑا جو ہے وہ پہلے حصہ سے تعلق رکھتا ہے جو یہ ہے وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا اور دوسرا حصہ انصار الی اللہ کے مضمون کو کھولتا ہے ۔ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے فرمایا ان تُبْدُوا الصَّدَقَتِ اگر تم صدقات ظاہر کر دو، خدا کی راہ میں جو خرچ کرتے ہو اسے کھول دو فَنِعِمَّا هِيَ یہ بھی بہت اچھی بات ہے وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُم اگر تم ان کو چھپاؤ اور فقراء کو دے دو تو یہ بھی تمہارے لئے ٹھیک ہے۔ اس مضمون کی وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پہلی آیت میں تو یہ بیان فرما دیا تھا کہ اللہ کو علم ہے اور جس کی خاطر تم خرچ کر رہے ہو جب اس کو علم ہو گیا تو بات پوری ہو گئی مضمون مکمل ہو گیا ۔ اس کے بعد مزید ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ انسان کے دل میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ نیکی تو صرف یہ ہے کہ اس طرح اللہ خرچ کروں کہ کسی دوسرے کو کسی قیمت پر بھی اس کا علم نہ ہو اس کے بغیر میرا انفاق قبول نہیں ہوگا ۔ یہ ایک وہمہ دل میں پیدا ہو سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم صدقات کو ظاہر کر و فنِعِمَّا هِی یہ بھی بہت عمدہ بات ہے۔ ظاہر کرو کے مضمون کا تعلق زیادہ تر قومی چندوں سے ہے، قومی اتفاقات سے ہے کیونکہ جب آپ قومی طور پر مالی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں تو معاملہ چھپ سکتا ہی نہیں۔ اس کا اظہار کے ساتھ ایک ایسا ربط ہے، ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ وہ ٹوٹ نہیں سکتا ۔ خدا تعالیٰ کو براہ راست تو آپ