خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 79

خطبات طاہر جلد ۴ 79 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں ۔۔۔۔۔ ضائع اور برباد نہ جائیں (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ: ۳۴۹) جانفشانیوں کی جو لمبی تحریر ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ ہمارے خاندان نے سکھوں کے خلاف اور بعض دوسری لڑائیوں میں بھی تمہارا (انگریزوں کا ) ساتھ دیا ہے اور اپنے خرچ پر تمہیں فوجی دستے مہیا کئے ۔ ان ساری باتوں کو بھلا کر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ تمہارے کسی دشمن خاندان کی کارروائیاں ہیں جو تمہیں تباہ کر دیں گی۔ ان تمام تحریرات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جماعت احمد یہ کا کوئی ذکر نہیں فرمایا بلکہ نام بھی نہیں لیا اور دوسری طرف واقعہ یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جب یہ باتیں انگریزوں تک پہنچائی گئیں تو آپ کا خاندان جو نہ صرف غیر احمدی بلکہ مخالف تھا اس کو اور شکووں کے علاوہ ایک یہ شکوہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پیدا ہوا کہ آپ ہمیں مذہبی لحاظ سے بھی دنیا میں ذلیل کروارہے ہیں کیونکہ آپ نے ایک ایسا دعویٰ کر دیا ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے مزید بر آں اس حکومت کی نگاہ میں بھی ہمیں ذلیل و خوار کروارہے ہیں اور اس کی دشمنی مول لے رہے ہیں اس پس منظر میں اس خاندان کی خاص خاندان کی خاطر آپ نے ایسا لکھا اور حکومت کو مخاطب کرتے تے ہوئے ان چٹھیات کا ذکر کیا جو اس خاندان کے بزرگوں کو ان کی وفاداری اور جاں نثاری سے متعلق حکومت نے لکھی تھیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں: وو جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے ( جماعت احمد یہ کا کوئی ذکر نہیں صرف خاندان کا ذکر ہے ) اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لئے۔ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۳۵۰) در حقیقت احمدیت کا وجود ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے شروع ہوتا ہے اور