خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 846
خطبات طاہر جلد۴ 846 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء صل کوشش کرتے رہیں گے ۔ ہم تو اس آقا کے غلام ہیں جس نے بیابان میں یہ عجیب ماجرا دکھایا تھا کہ صدیوں کے مردوں کو ، ہزاروں سال کے مردوں کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا۔ وہ مردے الہی رنگ پکڑ گئے تھے ۔ آج بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی شان احیائے موتی کے صدقے اور آپ ہی کے طفیل ہم اس مردہ سپین کو دوبارہ زندہ کریں گے۔ پس ہمارا انتقام تو وہی ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقام تھا، اس عفو کے شہزادے کا انتظام تھا، جو آپ پر موت برسانے کی کوشش کرتے تھے آپ انہیں زندگی عطا کرتے تھے۔ پس اے اسلام کے نام پر مارے جانے والو! ہم تمہاری خاطر تمہاری ہی طرف سے سارے سپین میں زندگی کا پانی بکھیریں گے ان مردوں کو جو بظاہر سطح زمین پر بس رہے ہیں اور در حقیقت قبرستان کا منظر پیش کر رہے ہیں ان کو ہم زندہ کریں گے اور ان میں دوبارہ اسلام کی روح کو دوڑتا ہوا اور پنپتا ہوا دیکھیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور سپین سے انشاء اللہ ساری دنیا کے لئے اسلام کے مبلغ نکلیں گے اور ساری دنیا میں سپینش مسلمان اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے عظیم الشان قربانیاں دینے لگے گا یہ ہمارا مقصد اور ادعا ہے۔ اور میں عہد کرتا ہوں اے خدا ! تو ہمیں توفیق عطا فرما ! ہم اس عہد کو پورا کرنے والے ہوں کہ اس قبرستان کو جو ظاہری مسلمانوں کا قبرستان ہے سارے سپین کے لئے زندگی کا سرچشمہ بنادیں گے ۔ آج اس قبرستان نے جو میرے دل کو زخمی کیا ہے اور جو میری روح کو چر کے لگائے ہیں اے خدا ! اس سے ایسے خون کی آبشار نکال ، ایسے خون کے سوتے نکال جو سارے سپین کو ترو تازہ کر دیں اور اسلام کا نیا رنگ بھر دیں اور تیری محبت کا نیا رنگ بھر دیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلام یہاں پیدا ہوں اور صرف غلام نہیں اس شان کے غلام پیدا ہوں کہ وہ اسلام کے لئے ساری دنیا میں قربانیاں دینے لگیں۔ اور مجھے یہ خیال آیا اور میں عہد کرتا ہوں کہ ہم یہ کوشش جاری رکھیں گے اور یہ کوشش کریں کہ انشاء اللہ تعالیٰ بالآخر تمام دنیا کے ہر خطے میں سپینش مبلغ بجھوائیں گے جو وہاں جا کر اسلام کی تبلیغ کریں۔ یہی انتظام تھا جو ہم اس قوم سے لے سکتے تھے اور یہی وہ انتقام ہے جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کو زیب دیتا ہے اور میں آپ کو یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ جب میں آپ کی طرف سے یہ عہد کر چکا ہوں تو آپ نے اس عہد کو نبھانے میں ہر ممکن میری مدد کرنی ہے۔ انشاء اللہ