خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 76
خطبات طاہر جلد۴ 76 خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۵ء جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے وہ بھی ایسی ہی تحریریں پیش کرتے رہے۔ علامہ علی حائری کا ایک اقتباس ہے جو مہ جو موعظه تحریف قرآن ، لاہور ا پریل ۱۹۲۳ء مرتبہ محمد رضی الرضوی امی پر درج ہے اس میں بھی اسی مضمون کی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ مولانا ظفر علی خان جو ایک وقت میں احرار کے ساتھ منسلک تھے اور بعد میں ان کو ملک و وطن اور اسلام کا غدار قرار دیا وہ ایک لمبے تجربہ کے بعد لکھتے ہیں: مسلمان ۔۔۔۔۔ ایک لمحہ کے لئے بھی ایسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے ( یعنی انگریزوں سے۔ ناقل ) ۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی ۔۔۔۔۔ بد بخت مسلمان ، گورنمنٹ سے سرکشی کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ، مسلمان نہیں“ اخبار زمیندار لا ہو را ارنومبر ۱۹۱۱ء) یہ ہے فتوی کہ حکومت برطانیہ کی سرکشی کرنے والا مسلمان ، مسلمان ہی نہیں رہتا۔ پھر فرماتے ہیں : اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے“ اخبار ”زمیندار“ لاہور ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء) یہ حالت تھی جسے بدلنے کے لئے انگریزوں نے یہ خود کاشتہ پودا کھڑا کیا تھا؟ پھر نظم کی صورت میں فرماتے ہیں : جھکا فرط عقیدت سے میرا سر ہوا جب تذکرہ کنگ ایمپرر کا جلالت کو ہے کیا کیا ناز اس پر کہ شاہنشاہ ہے وہ بحر و بر کا زہے قسمت جو ہو اک گوشہ حاصل ہمیں اس کی نگاہ فیض اثر کا اخبار زمیندار ۱۹ راکتوبر ۱۹۱۱ء)