خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد۴ 803 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۵ء معذرت کی کہ میں تو باہر جا رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ہم ٹھہرتے ہیں۔ چنانچہ ظہر کی نماز میں شامل ہوئے ، ظہر کی نماز کے بعد پھر بیٹھ گئے اور پھر سوالات کئے اور آخر پر ان کا تاثر یہ تھا کہ ان کے جو لیڈر تھے انہوں نے مجھے یہ کہا کہ آپ ہمارے لئے یہ دعا کریں کہ ہم آپ کی جماعت میں جلد شامل ہو جائیں ۔ اب یہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی زمین پھیلنے کے لئے تیار بیٹھی ہے اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اس زمین کو پھیلا رہے ہیں۔ تیار بیٹھی“ کا محاورہ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ کچھ اس میں آپ کی کوشش کا بھی دخل ہوگا ۔ کچھ نہ کچھ آپ کو لازما کرنا پڑے گا، ہاتھ تو پھیلانے پڑیں گے تا کہ جو وسعتیں ہیں اس میں کچھ آپ کا بھی حصہ ہو جائے۔ اس کے بغیر زمین از خود نہیں پھیلا کرتی ، کچھ معمولی جدوجہد ، کچھ کوشش ، کچھ تمنا کا دخل ہوا کرتا ہے جو بندوں کے اختیار میں ہوتی ہے اس لئے جماعت احمد یہ کو بطور خاص آج کل غیر معمولی تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہئے ۔ اس وقت اگر ستی ہوگئی تو ایسے وقت بار بارقوموں کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر طرف خدا کے فضل سے تیزی کے ساتھ جماعت احمد یہ کے اندر دلچسپی پیدا ہو رہی ہے اور رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں میں گیا ہوں اور وہاں بیعتیں نہ ہوئی ہوں۔ مختلف ممالک کے لوگ ہیں جو تھوڑی دیر کے اندر جماعت احمد یہ سے رابطہ پیدا کرتے ہی بیعتوں پر تیار ہو جاتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑے بڑے مخلص پیدا ہوتے ہیں۔ فرینکفرٹ میں جو غیروں کے ساتھ ملاقاتوں کا پروگرام تھا وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا رہا اور پریس کانفرنس بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیاب رہی ۔ مقامی معززین تشریف لائے ہوئے تھے ان کے ساتھ شام کے وقت جو مجلس لگی سارے فرینکفرٹ کے چوٹی کے معززین اس میں شامل تھے۔ سارے تو نہیں کہہ سکتے لیکن ان کے نمائندے تھے وہ مجلس بھی ختم ہونے میں نہیں آتی تھی۔ ان ممالک کے لئے یہ بات بڑی تعجب کی بات ہے کہ چھ بجے یا ساڑھے چھ بجے بلایا جائے اور اس کے بعد ساڑھے دس بجے تک مجلس چلتی رہے اور وہاں یہی کیفیت تھی بالآخر اس خیال سے کہ کہیں کچھ لوگوں کو جلدی نہ ہو یا وہ ادب واحترم کی وجہ سے نہ اٹھ رہے ہوں میں نے خود کہا کہ اگر اب پسند کریں تو بند کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ایک صاحب ہیں انہوں نے یہ کہا کہ آخری سوال ضرور کرنے دیں۔ چنانچہ انہوں نے پھر بھی سوال کیا اور اس وقت