خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد۴ 775 خطبه جمعه ۱۳ ستمبر ۱۹۸۵ء والوں نے پھر وہ ارادہ چھوڑ دیا اور 605 میں آئے کچھ اور عمارتیں ساتھ یہاں بنائی گئیں اور اس کو بیمار بچوں کے لئے ۔ یعنی بیمار سے مراد یہ ہے کہ جن کے ذہن بیمار ہوتے ہیں ۔ بچپن سے کسی بیماری کی وجہ سے ان کی نشو و نما رک جاتی ہے۔ ایسے بچوں کے لئے ایک گھر سے تبدیل کر دیا گیا اس علاقے کو اس سارےComplex کو اور اس کے لئے حکومت کی طرف سے جو بھی معیار ہے بہت بلند ہیں ان معیاروں کے مطابق تمام احتیاطیں برت کے نہایت ہی عمدہ عمارتیں تعمیر کی گئیں اور کچھ عرصہ تک انہیں بچوں کے لئے یہ عمارتیں وقف رہیں۔ لیکن اس کے بعد حکومت نے ایک بہت بڑا کمپلیکس ان بچوں کے لئے یہاں سے قریب ہی ایک خوبصورت جگہ پر بنا دیا اور یہاں کے بچے اپنے طور پر جن کے ماں باپ فیس دیتے تھے، ان کو جب حکومت کی طرف سے سہولت مل گئی تو وہ سارے بچے یہاں سے اُٹھا کر اس Complex میں لے گئے ۔ اب اس کی جو شکل رہ گئی باقی وہ ایسی تھی کہ بروکر (Broker) نے مجھے بتایا کہ اس میں کوئی اکیلا انسان چھوٹے خاندان والا ویسے ہی نہیں آسکتا تھا اور اتنے بڑے Complex کو سنبھالنا بہت مشکل کام تھا اس لئے اس کی جو قیمت ہونی چاہئے عمارتوں کے لحاظ سے اس سے تقریباً تیسرے حصہ پر یہ فروخت کے لئے مہیا ہو گئی اور سودا طے کرانے والے ایجنٹ کہتا کہ جب میں نے آپ کی جماعت کا یہ اشتہار پڑھا کہ ہمیں اس قسم کی جگہ چاہئے تو اُسی وقت پھر میں نے رابطہ کیا میں نے کہا کہ آپ کے لئے تو بنی بنائی جگہ موجود ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بغیر کسی دقت کے یہ سودا طے ہو گیا۔ اسلام آباد کا جو علاقہ ہمیں ملا ہے وہ بھی صاف نظر آ رہا تھا کہ اس میں خدا تعالیٰ کی تقدیر گھیر کر وہاں پہنچا رہی تھی جہاں ہمیں ضرورت تھی اور بالکل غیر معمولی حالات میں وہ بھی خدا تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ اب یہ جو علاقہ ہے ایک تو علاقہ بہت خوبصورت ہے ، اور ہالینڈ کا سب سے زیادہ علاقہ بلاشبہ ہر ایک بتانے والا یہی بتاتا ہے اور آج کل Tourist Attraction یعنی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہمارے اردگرد قریب ہی چند منٹ کے فاصلے پر یعنی چند منٹ کے چلنے کے فاصلے پر Camping Grounds ہیں۔ بڑی اچھی وہاں جماعت کے دوست جب اگر کسی بڑی ضرورت کے وقت یہاں ٹھہرنا چاہیں زیادہ تعداد میں تو یہ سہولت بھی خدا نے مہیا کر دی ہے ہمیں اور