خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 742 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 742

خطبات طاہر جلد۴ 742 خطبه جمعه ۳۰ را گست ۱۹۸۵ء کی ماہانہ آمد اس پر لیس کے سارے اخراجات کے لئے انشاء اللہ کفیل ہو جائے گی ۔ کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس طرف نظر جاتی ہو اور خدا نے وہاں نئی وسعتیں عطا نہ فرمادی ہوں ۔ مشرقی یورپ میں خدا نے تبلیغ کے نئے رستے کھول دیئے ہیں۔ نئی نئی قوموں میں نئے رستے کھول رہا ہے۔ چنانچہ ایک اشتراکی ملک سے ایک تاتاری پروفیسر نے بیعت کی ہے اور وہ بہت ہی مخلص ہیں اور بہت تعلیم یافتہ اپنی یونیورسٹی میں مذہبی امور کے وہ ایک سند سمجھے جاتے ہیں ۔ - اور اتفاق سے بیعت کرنے سے پہلے ان کو یہ کام ملا تھا کہ مذاہب کے تعارف پر وہ ایک کتاب لکھیں۔ چنانچہ انہوں نے ہمیں لکھا ہے کہ اب بتاؤ پھر ! کیا ہے اسلام اور احمدیت کیا ہے؟ اور جو کچھ کہو گے وہی کچھ لکھا جائے گا۔ حیرت ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ اپنے فضل سے یہ سامان فرمارہا ہے اور تاتاری لیڈر ایسے ہیں جن سے ہمارا اب رابطہ ہے، ان کے متعلق توقع ہے کہ اگر وہ خدا تعالی کے فضل سے حقیقی مسلمان بن جائیں تو ان کی قوم پوری کی پوری ان کے ساتھ آسکتی ہے،اس کے بھی امکانات ہیں۔ یوگوسلاویہ سے پہلی دفعہ نوجوان نے تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔ ان کو محدود وقت میں اجازت مل سکتی ہے۔ تو تین مہینے کی جو ان کو چھٹیاں ہیں وہ یہاں انشاء اللہ کے گزاریں گے اور دینی تعلیم حاصل کریں گے اور اپنے ملک میں جا کر پھر وہ پیغام پہنچائیں گے۔ ہنگری میں خدا تعالیٰ کے فضل سے نیا رابطہ قائم ہو چکا ہے اور روس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے نئے روابط قائم ہو چکے ہیں ایک رابطہ نہیں کئی روابط اور وہاں سے ایک بیعت تو براہ راست لینن گراڈ سے آئی تھی اس کے بعد اب پتہ چلا ہے کہ وہاں جگہ جگہ احمدی پھیلے ہوئے تھے جنہوں نے کبھی بتایا ہی نہیں تھا۔ لیکن چونکہ انگلستان سے رابطہ نسبتاً آسان ہے اس لئے وہ اللہ کے فضل سے اب آتے ہیں ملتے ہیں رابطہ قائم کرتے ہیں آئے ، نئی ہدایتیں لیتے ہیں آئے۔ کوئی دنیا کا حصہ ایسا نہیں رہا جہاں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے احمدیت کے نفوذ کے سامان پیدا نہیں کر دیئے ۔ اور یہ آج کل کے چند بیچارے مولوی یہ نکلے ہیں ہماری زمینیں تنگ کرنے کے لئے ! ان پر خدا کی زمین تنگ کر دی جائے اور ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ ان کی تقدیر ہے کہ ان پر زمینیں تنگ کی جائیں گی۔ اپنے بندوں پر خدا زمینیں تنگ نہیں کیا کرتا ان کے لئے تو وسعتوں کے وعدے ہی ہیں اور ہم دیکھ رہے