خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد۴ 66 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء صلى الله مٹ جائے ۔ یہ تو ایک چھوٹا سا واقعہ تھا جو مخفی تقدیر الہی کے اظہار کے طور پر ہمارے سامنے آیا مگر آنحضرت صرف اسی وقت تو خدا کے پیارے نہیں تھے ، صرف وہی ایک دور تو نہیں تھا جس میں آپ نے اللہ کی راہ میں دُکھ اُٹھایا ۔ ہر آن آپ کے دل پر ایک قیامت ٹوٹا کرتی تھی ۔ اور ہر روز صلى الله آنحضور خدا کی خاطر اپنی جان قربان کرتے چلے جاتے تھے۔ چنانچہ اس آیہ کریمہ: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ١٦٣) کی رو سے آپ خدا کی خاطر ہر روز مرتے تھے اور خدا ہی کی طرف سے ہر روز زندہ کئے جاتے تھے۔ اس لئے یہی وہ تقدیر تھی جو مسلسل جاری رہی اور اس کے مقابل پر آپ کی دعائیں بھی مسلسل جاری صلى الله علی رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ محمد مصطفی ﷺ کی دعاؤں کی تقدیر غالب آگئی اور آسمان پر سنی گئی اور وہ قوم جس کی ہلاکت مقدر ہو چکی تھی اس کو ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی۔ اس آقا کی غلامی کے آپ دعویدار ہیں اسی کے نقش قدم پر چلیں اور قوم کی ہلاکت چاہنے میں جلدی نہ کریں بلکہ اس کے احیاء کے لئے خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں ۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور قوم جلد تر سمجھ جائے ۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ۱۹۸۴ء کا سال احرار کا سال تھا اور انشاء اللہ تعالیٰ ۱۹۸۵ء کا سال جماعت احمدیہ کا سال ثابت ہوگا۔