خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 721 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 721

خطبات طاہر جلد۴ 721 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء احمد یہ غالب آئے گی، ہر سرزمین پر غالب آئے گی ، ہر جہاد میں غالب آئے گی، ہر مقابلے میں غالب آئے گی۔ اب میں اہل انگلستان کو یہ بتانے کے لئے کہ بس کہیں ان کو یہ وہم نہ ہو جائے کہ انہوں یہ لئے ان یہ نہ ہو نے بھی قربانی میں خوب حصہ لے لیا اور وہ اہل پاکستان کیبر ابر ہو گئے۔ میں پاکستان کا بھی ذکر تھوڑا سا کردوں ۔ جن مظالم کا جماعت احمد یہ پاکستان اس وقت نشانہ بنی ہوئی ہے اس کا عشر عشیر بھی یہاں آپ نہیں دیکھ رہے ۔ چند گالیاں ان کی چھپ گئیں ، چندان کے فحش کلامی کے نمونے آپ نے یہاں دیکھ لئے اور آپ کے دل جل گئے اور آپ نے سمجھا کہ بس یہی بہت ہوگئی ، اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے ۔ وہاں دن رات پیشہ ور مولوی اس کے سوا اور کام ہی کوئی نہیں جانتے کہ غلیظ سے غلیظ گالیاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیں اور صرف پیشہ ور مولوی ہی نہیں حکومت کے سربراہ بھی اس مشغلے میں ان کے ساتھ ہیں اور وقتا فوقتا یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں کہ تم ایک مظلوم اور بے سہارا قوم ہو تم ایک مجبور قوم ہو، ہم تمہیں ہر طرح ذلیل اور رسوا کریں گے، ہر قسم کا دکھ تمہیں دیں گے اور اسی پر بس نہیں کی جاتی پھر قتل و غارت کی تعلیم دی جاتی ہے، پھر قتل و غارت رتے ہیں پیشہ ور آدمی رکھے جاتے ہیں۔ اگر چہ بیٹلے کی سرزمین میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھایا کہ ایک احمدی کے مقدس خون سے وہ سرزمین شاداب ہوئی ہے یہ اہل انگلستان کی خوش قسمتی ہے مگر یہ نہ سمجھ لیں غلط نہی سے کہ وہ سب کچھ جو وہاں ہو رہا ہے وہ آپ کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ ان حالات میں سے گزرنے کے بعد آپ کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک طعمہ ہے محض ، ایک چھوٹا سا لقمہ ہے یہ بتانے کے لئے کہ قربانیاں دور سے دیکھنا اور چیز ہوتا ہے اور قربانیوں میں سے گزرنا کچھ اور بات ہوتی ہے۔ یہ دو چیزیں ایک جیسی نہیں ہوا کرتیں۔ چنانچہ ایک جواب جو اس سوال میں مخفی ہے وہ یہ بھی ہے فرمایا کہ وہ لوگ جو ان تجربوں میں سے گزر رہے ہیں ان مومنوں جیسے تو نہیں ہو سکتے جو نظریاتی طور پر یہ ساری باتیں مانتے ہیں لیکن ان تجارب میں سے ان کی زندگیاں نہیں گزریں۔ خدا کی عبادت اور اس کی خاطر قربانیاں اور خدا کی خاطر صبر اور رضا کی اور خاموشیاں یہ تجربے عملاً ان کو حاصل نہیں ہوئے تھوڑا بہت یہاں اور وہاں چکھ لیا ہے نظریاتی طور پر ایمان رکھتے ہیں لیکن یہ اس جیسے نہیں ہو سکتے ۔ تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا