خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد ۴ 718 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء میٹھے پھل کھائیں گے یہیں وہ سب کچھ ان کو ملے گا۔ چنانچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ وَاتُوا بِهِ مُتَشَابِها ( البقرة : ۲۶) میں جو مضمون ہے وہ بھی اسی مضمون کا ایک حصہ ہے کہ وہ حصہ ہے کہ وہ کہیں گے اے اللہ ! ہماری نیکیوں کے کچھ پھل تو پھل تو دنیا میں بھی ہمارے سامنے پیش کئے گئے تھے تو نے ہی دیئے تھے اب جو تو ہمیں پھل دے رہا ہے یہ تو ویسے ہی ہیں گویا کہ وہی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ نہیں تم نہیں جانتے ان سے کوئی نسبت ہی نہیں دنیا کی حسنة بھی اگرچہ حسنة ہوتی ہے لیکن آخرت کی حسنہ سے اس کو کوئی نسبت نہیں ہے۔ تو فرمايافي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ہم ان کو مستقبل کے وعدوں پر زندہ نہیں رکھیں گے، ما بعد الموت کی جنتوں کی بشارتیں نہیں دیں گے ۔ وہ دیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی اس دنیا کی بشارتیں بھی دیں گے، اس دنیا میں بھی ان کو جزا ملے گی وَاَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ اور اسی مضمون کو آگے بڑھا کر اس شک کو دور فرمادیا کہ شاید اس دنیا کی حسنہ کے بعد آگے ان کو کچھ نہیں ملنا۔ چنانچہ یہ مضمون وہیں سے آگے بڑھتا ہے۔ وَارْضُ الله وَاسِعَہ وہ جو غیر تم پر تنگی ڈالنا چاہتے ہیں، تمہارا عرصہ حیات تنگ کرنا چاہتے ہیں اور ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہم غیر کونا کام کر دیں گے۔ وہ ہرگز تمہارا عرصہ حیات تنگ کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا جتنی وہ تمہاری زمینیں تنگ کرنے کی کوشش کرے گا اتنی ہی خدا تمہیں وسیع تر زمین عطا فرماتا چلا جائے گا۔ ایک ملک میں تمہیں روکنے کی کوشش کرے گا تو تم اور ملکوں میں پھیل جاؤ گے۔ ایک براعظم میں تمہیں پابند کرنے کی کوشش کرے گا تو ۔ تو نئے براعظم تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمادے گا۔ غیر اللہ کی مجال نہیں ہے کہ وہ خدا والوں کی زمینوں کو تنگ کردے ۔ وَأَرْضُ اللهِ وَاسِعَہ خدا کی زمین وسعت پذیر ہے اور وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے اُن لوگوں کے لئے جو خدا کے ہیں، جن کی صفات پہلے بیان ہوئی ہیں ۔ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّبِرُونَ يقيناً صابرون وہ لوگ صبر کرنے والے ہی ہیں جن کو لازماً اجر دیا جائے گا اور وہ اجر اس دنیا تک محدود نہیں ہو گا بلکہ بغیر حساب ہوگا اس لئے اگر کوئی وہم کسی کے دل میں گزرا ہو کہ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کہہ کے ہماری نیکیوں کا یہیں قصہ ختم کر دیا گیا ہے فرماتا ہے کہ نہیں اگر تم صبر کرنے والوں میں ہو گے تو صبر کرنے والوں کا اجر بے حساب ہے۔