خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 708 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 708

خطبات طاہر جلد۴ 708 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء بتایا اب ایسے واقعات یہاں رونما ہو رہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس تعلیم کو عمل میں بھی اب ڈھالا جا رہا ہے اور جو پہلے محض تلقین تھی اب اس کے عملی نمونے بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ پہلے اس تبلیغ اسلام کا ایک عجیب نظارہ بیٹلے اور ہڈرزفیلڈ کی سرزمین نے دیکھا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک جلسہ کا اعلان کیا گیا تھا جس میں کھلی دعوت تھی کہ جو دوست جماعت احمدیہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی دلچسپی رکھتے ہیں ، وہ شوق سے تشریف لائیں اور جن کو کوئی دلچسپی نہیں جو سننا برداشت نہیں کرتے ان کا حق ہے وہ بے شک تشریف نہ لائیں۔ چنانچہ ان تبلیغ اسلام کے معلمین نے اس پر یہ ردعمل دکھایا کہ اس تمام علاقے میں گھوم کر بڑی کثرت کے ساتھ عوام سے رابطہ پیدا کیا اور اشتعال انگیزی کو اس درجہ تک پہنچا دیا کہ بعض مساجد میں بعض احمدی سروں کی قیمتیں رکھی گئیں اور اس غرض سے چندے اکٹھے کئے گئے ۔ بعض اطلاعوں کے مطابق تو چالیس چالیس ہزار پاؤنڈ بھی بعض احمدی سروں کی قیمتیں مقرر کی گئیں اور بہت سا خرچ کر کے بسیں اور ویگنز اکٹھی کر کے ان جگہوں میں پہنچائی گئیں۔ پہلے تو لوگ اکٹھے کئے گئے ان بسوں میں پھر ان جگہوں میں ان لوگوں پہنچایا گیا جہاں ان کو احتمال تھا کہ کہیں جماعت احمد یہ دام فریب میں دوسرے معصوم مسلمانوں اور عیسائیوں کو گرفتار نہ کرلے۔ چنانچہ اس شور اور شر کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ چونکہ امن پسند جماعت ہے اور ہرگز زبر دستی کسی ایسے شخص کو ہدایت دینے کا دعوی ہی نہیں کرتی جو ہدایت کا نام سننے کے لئے بھی تیار نہ ہو اس لئے اور کچھ اس غرض سے کہ مقامی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی ہمدردیاں زیادہ تر ان کے ساتھ تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ احمدی اپنا حق چھوڑ دیں اور وہ حق غصب کرنے والے اپنی بات منوا لیں ۔ چنانچہ ان دونوں وجوہات کی بناء پر جماعت احمدیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ جلسہ نہیں ہوگا اور چونکہ اس سے پہلے اعلان ہو چکا تھا اس لئے چند دوستوں نے وہاں جا کر ایسے مہمانوں کو جو غلطی سے آگئے ہوں، جن تک جلسہ کی Cancellation یا تنسیخ کی اطلاع نہ پہنچی ہو بتانے کے لئے کہ جلسہ منسوخ ہو گیا ہے پروگرام بنایا کہ کچھ عرصہ ہم وہاں کھڑے رہیں گے جو اتفاقیہ آنے والے ہیں ان کو بتادیں گے۔ چنانچہ جب یہ لوگ جا رہے تھے ان میں دو تین مرد تھے جو اس علاقے کے اچھے معزز انگریز نو مسلم بھی اور پاکستانی ڈاکٹرز اور ٹیچرز ، ایک انگریز نو مسلم خاتون بھی تھیں دو بچے تھے ۔ یہ قافلہ ان