خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد ۴ 683 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء ہے۔ یہ ایک عجیب قسم کا توازن ہے جو بڑا ہی بار یک توازن ہے اس کو سمجھنا بھی ضروری ہے اور اسی طرح اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ جب صحابہ صحابہؓ کو شہادت کی کی طرف طرف بلایا جاتا اتا تھا تھا تو تو بڑے بڑے ذ ذوق شوق کے ساتھ جاتے تھے لیکن کبھی یہ نہیں آپ نے دیکھا کہ کسی صحابی نے تلوار اٹھانے میں دیر کر دی ہو اور دشمن کو موقع دیا ہو کہ پہلے وہ وار کر دے ۔ بھی آپ نے یہ نہیں سنا ہو گا کسی صحابی نے اپنی دفاعی شیلڈ اٹھانے میں دیر کر دی ہو اور دشمن کو موقع دیا ہو کہ وہ اس پر کامیاب وار کر دے تا کہ وہ شہید ہو جائے۔ ان کی زندگیوں میں عجیب توازن تھا۔ شہادت کا شوق ایسا کہ دعا ئیں کرواتے تھے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ سے کہ دعا صلى الله عليه کریں کہ ہم شہید ہو جائیں اور بار بار عرض کرتے تھے جنگ کے دوران بھی اور لڑتے اس شدت کے ساتھ تھے اور اپنا دفاع ایسی کامیابی کے ساتھ کرتے تھے کہ نہیں شہید ہو سکتے تھے۔ یہ جو زندگی کی حیرت انگیز کیفیت ہے دنیا اس سے ناواقف ہے، سوچ بھی نہیں سکتی یہ صرف اہل ایمان ہی کا صرف کرشمہ ہے مگر آنحضور علی اور آپ کے غلاموں نے اس کو خوب کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے یہ علاوہ وہ بظاہر تضاد لیکن فی الحقیقت تضاد سے عاری چیز ہے۔ خلوص اور تقومی اور سچائی کے ساتھ ہم جو ایمان رکھتے ہیں بالکل اسی ایمان کو جب عملی دنیا میں ڈھالا جاتا ہے تو اس قسم کے نظارے پیش آتے ہیں۔ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دفاع کے لئے اپنی کامیابی کے لئے جتنی صلاحیتیں بخشی ہیں وہ تمام کی تمام انتہائی جدو جہد اور کوشش کے ساتھ خدا کی راہ میں صرف کر دی جائیں اور اس راہ میں اگر موت آئے تو اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیں ۔ موت کی دعا کریں مگر ان معنوں میں نہیں کہ ہماری غفلت سے ہم پر موت آئے۔ موت کی دعا ان معنوں میں کہ اے خدا! ہم حد کر دیں سب کچھ پھر بھی ہمیں تو اپنی راہ میں اپنی خاطر بلا لے۔ یہ ہے وہ ایمان کی اندرونی کیفیت جس کے نتیجہ میں وہ نظارے دیکھنے میں آئے جو آنحضرت ﷺ کے غزوات میں بکثرت دیکھنے میں آتے تھے۔ الله چنانچہ جنگ احد میں یہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور بار بار آیا کہ ایک صحابی جو بہت ہی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی جنگی صلاحیتیں رکھتے تھے وہ بار بار دشمن کی صف پر حملہ کرتے تھے اور اتنی کامیابی کے ساتھ حملہ کرتے تھے اور دفاع کرتے تھے کہ نرنے میں آجانے کے باوجود