خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد۴ 62 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء متعلق کچھ بھی علم نہ ہو اپنے اندر ایک ہمدردی محسوس کرتا ہے۔ کم سے کم جماعت سے متعلق معلوم کرنے کی جستجو اس میں ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔ اس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے ایک اور بہت اچھا موقع ہاتھ آگیا جسے ہم پہلے کھو چکے تھے۔ قصہ یہ ہے کہ گذشتہ حکومت نے اسمبلی کی کارروائی کے بارے میں ہمارے ہاتھ باندھے ہوئے تھے، انہوں نے وہ ہاتھ ایک طرح سے کھول دیئے اور ہمیں جوابات کا موقع دیا۔ گذشتہ حکومت نے ہمیں پابند کر دیا تھا کہ تم نے یہ سوالات اور یہ جوابات دنیا کو نہیں بتانے لیکن اس حکومت نے سوالات کی چوری وہیں سے کی ہے کیونکہ میں تو ان حالات سے گذرا ہوں مجھے پتہ ہے ، تمام سوالات من وعن وہی ہیں جو قومی اسمبلی میں اُٹھائے گئے تھے۔ البتہ طریق یہ اختیار کیا گیا ہے کہ اُن میں سے کچھ تو وائٹ پیپر میں شامل کر لئے گئے اور بیشتر ایک رسالہ کے سپرد کر دیئے گئے جو ہے تو ایک چیتھڑا لیکن بہر حال رسالہ کے نام سے مشہور ہے قومی ڈائجسٹ کہلاتا ہے۔ اس کو پتہ نہیں کتنے لاکھ روپیہ دیا گیا۔ یہ رسالہ سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سراسر جھوٹے الزامات کا ایک پلندہ ہے جسے شائع کیا گیا۔ اس میں تہذیب سے گری ہوئی باتیں آپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور ایسے عامیانہ انداز سے پیش کی گئی ہیں کہ شریف آدمی ان باتوں کو پڑھ ہی نہیں سکتا اور اگر پڑھے بھی تو بے اختیار ہو کر اس بازاری انداز صحافت کے شاہ کار کو نفرت سے پھینک دے۔ لیکن بصرف کثیر اُسے ایک نہایت شاندار اور عظیم الشان رسالے کی شکل بنا کر شائع کیا گیا اور سرکاری کتابچہ سے جو اعتراض باقی رہ گئے تھے وہ سارے اس کے اندر شامل کر دیئے۔ اور یہ با قاعدہ ایک منصوبہ تھا اور اب احرار کے بعض نہایت ہی ذلیل قسم کے چیتھڑے ہیں جو اشتہارات کی شکل میں آئے روز شائع ہوتے رہتے ہیں جن کی طرف پاکستان کے شریف عوام کبھی توجہ ہی نہیں کرتے ۔ اُن کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے کہ وزارت اطلاعات ان کو خرید خرید کر ساری دنیا میں پاکستانی سفارت خانوں میں بھجوا رہی ہے۔ گویا وزارت اطلاعات ہی بجھتی ہے کہ پاکستانی سفارت خانے صرف اسی کام کے لئے وقف ہیں۔ وہ کسی دن دیکھیں تو سہی کہ سفارت خانوں میں جماعت احمد یہ کے خلاف لٹریچر کا بنتا کیا ہے۔ آج کل تو سردی کا موسم ہے کوئی بعید نہیں کہ سفارت خانوں میں اُسے جلا کر ہاتھ سینکے جارہے ہوں اور اس طرح اس کا بہتر مصرف کیا جا رہا ہو۔ پس سفارت خانوں کے عملہ کو تو اپنی ہوش نہیں ہوتی ، وہ دوسری