خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد۴ 664 خطبه جمعه ۲ اگست ۱۹۸۵ء ہزار برس کے برابر بو جھل نظر آئے گا یہ قرآن کے منہ میں بات ڈالنے والی بات نہیں ہے بلکہ خود قرآن کریم کی دوسری آیت کریمہ انہی لفظوں میں اس مضمون کو واضح فرما رہی ہے کہ بعض دن بوجھل ہو جایا کرتے ہیں۔ خدا کے جب عذاب آتے ہیں تو بھاری ہو جاتے ہیں۔ فرمایا يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا اے محمد ! تجھ سوال کرتے ہیں اس صلى الله علوس سے یہ سوا ساعت کے متعلق جس کا وعدہ دیا گیا ہے، وہ انقلابی گھڑی جس کے منتظر ہو تم اس کے متعلق ۔ پوچھتے ہیں اَيَّانَ مُرْسُهَا ۔ آخر وہ کب ظاہر ہوگی؟ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي تو ان سے کہہ دے کہ اس کا علم میرے رب کو ہے۔ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ اپنے وقت پر خدا کے سوا اس گھڑی کو کوئی ظاہر نہیں فرما سکتا یعنی اس انقلاب کو جو اپنے وقت پر لازماً آئے گا کوئی ظاہر نہیں کر سکتا کوئی برپا نہیں کر سکتا خدا کے سوا ۔ ثَقُلَتْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وہ ایسی قیامت ہے جو بہت ہی بوجھل ہوگی فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ زمین و آسمان پر وہ گھڑی بڑی سخت اور کڑی ہوگی اور ایسا سخت وقت ہوگا جو بوجھل ہو جائے گا زمینوں پر بھی اور آسمانوں پر بھی ۔ لَا تَأْتِيَكُمُ إِلَّا بَغْتَةً تو وہ آئے گی وہ گھڑی ضرور لیکن اچانک آئے گی ۔ پس جس چیز نے اچانک آنا ہو اس کے متعلق پہلے سے تخمینے کیسے لگائے جا سکتے ہیں کہ فلاں دن آجائے گی اور فلاں دن آجائے گی ۔ عمومی طور پر اشارے تو مل جاتے ہیں لیکن وہ ایسے اشارے ہیں جو انگلی یہاں بھی اٹھتی ہے وہاں بھی اٹھتی ہے اور وہاں بھی اٹھتی ہے وہ حرکت کرنے والی انگلی ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی ۔ شاید یہ ہو ،شاید وہ ہو، شاید وہ ہو اور شاید وہ ہوا اور اگر یہ شاید کا مضمون نہ پایا جائے تو بَغْتَةً کا مضمون پھر اس کے ساتھ اکٹھا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی بکثرت بار بار جب دشمنوں کے منصوبوں کی خبر دی گئی اور جماعت پر سخت اوقات کی خبر دی گئی ، ساتھ ہی مدد کے متعلق بَغْتَةً کا اظہار فرمایا کہ وہ اچانک آئے گی ۔ اس لئے جماعت احمد یہ کا جہاں تک تعلق ہے یہ اندازے لگانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات سے یا وہ رویا اور کشوف جو خدا نے مجھ پر ظاہر فرمائے کہ فلاں دن معین طور پر ضرور ہو گا یہ درست نہیں ہے۔ اگر یہ درست ہو تو پھر بَغْتَةً والی بات درست نہیں ہو سکتی اور بَغْتَةً والی بات تو یقینی ہے کیونکہ قرآن کریم میں قطعی طور پر موجود ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ