خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 59

خطبات طاہر جلد ۴ 59 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء چنانچه گذشتہ حکومت کے اقدامات سے موازنہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے جو مبینہ رسالہ شائع کیا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ گذشتہ قومی اسمبلی کا واقعی یہ بڑا کارنامہ ہے لیکن باوجود اس کے کہ وہ قومی اسمبلی ان کو Dissolve کرنی پڑی اور اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس کے سارے ممبران (إِلَّا مَا شَاء الله ) گندے اور بدکار لوگ ہیں ۔ مگر پھر بھی انہوں نے قومی اسمبلی کے کارنامہ کو تسلیم کیا۔ کیونکہ ان کی سوچ ان کے ساتھ ملتی تھی۔ ایک ہی رنگ کی ادا ئیں تھیں اس لئے وہ کارنامہ تو تسلیم کرنا پڑتا تھا اور تسلیم کیا کہ اس اسمبلی کا یہ ایک بہت بڑا اور عظیم الشان کارنامہ تھا جس کی رو سے بظاہر سو سالہ مسئلہ حل کر دیا گیا لیکن اُن سے یہ سو سالہ مسئلہ پوری طرح حل نہ ہو سکا کیونکہ اس سلسلہ میں جو قوانین بنانے رہتے تھے وہ ہمارے مقدر میں لکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ ہم نے وہ قوانین اختیار کر کے اب اس جماعت کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع کر دیا ہے اور اب عالم اسلام کو کوئی خطرہ نہیں رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ مسئلہ کس طرح حل ہوا ، مسلمان خطرہ سے کس طرح بچائے گئے اس کے متعلق مبینہ سرکاری کتابچہ کے آخر پر لکھا ہے کہ ہم نے یہ مسئلہ یوں حل کیا کہ ایک حکم نافذ کر دیا جس کی رو سے جماعت کی طرف سے اذان دینی بند ہو گئی ، مسلمان کہلانا بند ہو گیا، اب کلمہ پڑھ اور لکھ نہیں سکتے اور مسجدوں کو مسجد میں نہیں کہہ سکتے اور مسلمانوں والی ادائیں اختیار نہیں کر سکتے اور قرآن کریم کے احکامات پر عمل نہیں کر سکتے ، دیکھو اب ہم کتنے راضی ہیں ۔ ہم نے کتنا عظیم الشان مسئلہ حل کر دیا۔ گویا یہ وہ نتیجہ ہے جو انہوں نے آخر میں نکالا ہے۔ لیکن حماقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ یعنی چالاکی کے اندر بھی بعض دفعہ حماقتیں ہوتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس سچائی نہ ہونے کے نتیجہ میں چالاکی کے اندر ایک بیوقوفی شامل ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ضرور ظاہر کرتی ہے۔ اس لئے یہ اندرونی تضاد اور یہ بیوقوفیاں سبھی ایک جھوٹی چالا کی کا نتیجہ ہیں ورنہ سچی عقل کے نتیجہ میں یہ تضاد پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس موجودہ حکومت نے یہ طریق اختیار کیا اور اپنے آپ کو بھٹو حکومت سے زیادہ چالاک سمجھا اور کہا کہ اُن کی تو بیوقوفی تھی کہ قومی اسمبلی میں سوال و جواب کا موقع دے دیا گیا تھا۔ چنانچہ وائٹ پیپر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ دراصل نبوت کا جو دعویٰ کرے اُس سے تو گفت و شنید کرنی نہیں چاہئے دلائل سے اس کو شکست دینے کی کوشش کرنا ہی بیوقوفی ہے۔ اس لئے جو علاج ہم نے تجویز کیا