خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد ۴ 649 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۵ء جھانکنے کا ساری دنیا میں ایک بھی انسان ایسا نہیں ہے جو یہ دعویٰ کر سکتا ہو کہ اس طرح لاکھوں آدمیوں کے ساتھ میرا ذاتی تعلق ہے اور میں ان کے دل کی کیفیات جانتا ہوں ۔ کوئی نظام ہی نہیں ہے اس جیسا کہیں اور تو پتہ کس طرح کسی کو لگے، ان کے رسمی تعلقات ، ان کے رسمی آپس کے واسطے، ۔ اسے، خط و کتابت بھی ہو تو سیکرٹریوں کے ذریعے ، لاکھوں خطوں میں سے شاید دس کا پتہ چلے کسی کو کہ کیا آیا تھا اور کیا لکھا تھا۔ سب ڈھکوسلے ہیں بناوٹیں ہیں ، ایک نظام خلافت ہے جو خدا کے فضل ۔ جو زندہ اور فعال تعلق رکھتا ہے جماعت احمد یہ سے اور جماعت احمد یہ ہے جو زندہ اور فعال تعلق رکھتی ہے اپنے نظام خلافت ، سے اپنے دل کے سب حال بیان کرتے ہیں جس طرح باپ سے بیٹا بیان کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بے تکلفی کے ساتھ ، جس طرح ماں سے بیٹی کھل جاتی ہے اس سے بھی زیادہ بے تکلفی اور اعتماد کے ساتھ اپنے سارے دل کی باتیں کھولتے ہیں۔ اُن پر مشورے لیتے ہیں ، حالات بیان کرتے ہیں، دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں ، دعائیں کرتے ہیں نظام خلافت تو ایک عجیب چیز ہے کوئی باہر کی دنیا والا تصور کر ہی نہیں سکتا جتنا چاہے زور لگا لے اس کا تصور نظام خلافت کے قدموں تک بھی نہیں پہنچ سکتا ہے۔ احمدی ہیں جن میں نظام خلافت وارادت کے طور پر رائج ہے ایک جاری سلسلہ ہے زندگی کا ، اس لیے آپ جانتے ہیں یہ زبان یا میں جانتا ہوں اور وہ خدا جانتا ہے جس نے یہ عطائیں کی ہیں ہم پر ، بے شمار احسانات فرمائے ہیں۔ ہمارے غیر کو اس کی خبر نہیں ہو سکتی ۔ پس جب میں نے تحریک کی تو ڈیڑھ لاکھ پونڈ کی تحریک کی پریس کے لئے اور وہ بھی ضرورت دراصل احمدیت کی فتح کا ایک نشان تھا ان کی کوششیں ، انکی جدو جہد مخالفانہ جس قدر بھی یہ زور مار سکتے تھے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کثرت کے ساتھ لٹریچر کی طلب پیدا ہوئی کہ اب ہمارے لئے کہ ممکن نہیں تھا کہ عام جو رسمی ذرائع ہیں انکے ذریعہ ہم اس ضرورت کو پورا کر سکیں، ہر روز نئے خیالات دل میں اُٹھتے ہیں۔ ہر روز نئے نئے مضامین اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے ساری جماعت کے اجتماعی دماغ کو اور اس کے نتیجہ میں جس طرح ہمیں پہنچنا چاہئے ، لوگوں تک اس کیلئے لازمی تھا کہ ہم اپنا ایک جدید پریس اگر پریس نہیں تو جدید کمپیوٹر سے خط و کتابت کا نظام اپنا اختیار کر لیں کیونکہ زیادہ دیر اسی میں لگا کرتی ہے۔ میں نے یہ سوچ کر کہ پہلے یورپین تحریک ہے اور بہت غیر معمولی جماعت نے قربانی کی ہے ڈیڑھ لاکھ پونڈ کی تحریک کی تھی اور یہ تو یقین تھا کہ ڈیڑھ لاکھ پونڈ پورا ہو جائے گا