خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد۴ 632 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۸۵ء غافل ہو نہیں سکتا اجازت نہیں ہے کہ غافل رہے اور دوسری بات یہ کہ آپ جو چاہیں کریں جتنی چاہیں حکمت سے کام لیں اور حکمت سے کام لینا پڑے گا ، نرمی کریں اور دکھ دہی سے بچیں اور پیار اور محبت کو شیوہ بنائیں اور ایثار سے کام لیں لیکن یہ نہ سوچ بیٹھیں کہ اس کی وجہ سے آپ کی مخالفت نہیں ہو گی ۔ یہ تو خدا تعالیٰ نے پہلے سے متنبہ فرمادیا ہے۔ ابھی آپ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے، ابھی انسان پیدا نہیں ہوا تھا ، ابھی کائنات وجود میں نہیں آئی تھی اس وقت ایک مکالمے کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان کو متنبہ فرمادیا کہ جب بھی خدا کی طرف سے رسول آئیں گے تو فساد ضرور بر پا ہوں گے لیکن فساد کی ذمہ داری کلیہ فریق مخالف پر ہو گی ہمارے رسولوں پر نہیں ہوگی ۔ چنانچہ جب اس صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں تو اور بھی بہت سی باتیں ہمارے ہاتھ آتی ہیں فائدے کی اور بہت سے حکمت کے راز ہمیں معلوم ہوتے ہیں اور ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے جس میں آپ غوطے لگا ئیں تو کئی قسم کے نہایت ہی قیمتی موتی آپ کے ہاتھ آئیں گے۔ جب ذمہ داری فساد کی نہیں ہے تو مبلغ کو یہ بتا دیا کہ اس طرح تبلیغ کرنی ہے کہ دشمن تم پر نظر رکھے گا ، دشمن تلاش کرے گا کہ تم سے سے ادنی سی بھی ایسی غلطی ہو کہ جس کے نتیجہ میں تم پر ذمہ داری پھینک سکے اور بار بار متنبہ کر دیا کہ دشمن تلاش میں ہے ، بہانہ جوئی کر رہا ہے اس لئے خبر دار۔ چنانچہ فرعون کا ذکر فرمایا یا دیگر مخالفین انبیاء کا ذکر فرمایا وہ یہ عذر تراشتے ہیں تمہاری مخالفت کے تو دراصل آپ کو متنبہ کیا جا رہا ہے پہلے سے ہی ۔ انگریزی میں کہتے ہیں Fore warned is force armed جس کو پہلے سے متنبہ کر دیا جائے گویا کہ اس کے ہاتھ میں دفاعی ہتھیار پکڑا دیا گیا ۔ تو آپ کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے کئی دفاعی ہتھیار پکڑا دیئے ہیں وہ سارے عذر جو غیر تلاش کرتے ہیں معصوموں کو دکھ دینے کے وہ بتا دیئے اور فرمایا یہاں بھی احتیاط کرنا اور یہاں بھی احتیاط کرنا اور یہاں بھی احتیاط کرنا اور یہاں بھی احتیاط کرنا ، یاد رکھنا کہ تم سید المعصومین کے غلام ہو اس لئے تمہارے اندر بھی لوگ عصمت کا رنگ دیکھیں گے اور کسی قسم کی بیوقوفی سرزد نہ ہو، کسی قسم کی حماقت نہ سرزد ہو، کوئی غلطی نہ کر بیٹھنا کہ واقعہ دشمن کے ہاتھ میں کوئی بہا نہ آجائے کہ اس وجہ سے ہم ان کو مارتے ہیں ، اس وجہ سے ان کی مخالفت کرتے ہیں ، یہ ان کی غلطی ہے۔ تو دیکھئے تھوڑے سے کلام میں یہ فصاحت و بلاغت کا قرآن کریم کا کمال ہے کہ کتنی باتیں ہمیں بتا دیں اور یہ بتا دیا کہ دشمن تاک میں رہے گا ، وہ پہلے سے ہی ارادے