خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد۴ 624 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء ہے وہ یہ ہے اگر میں پانچ آدمیوں کو کہوں کہ آپ دے دیں تو بلاتر در وہ شکر یہ ادا کرتے ہوئے یہ رقم فوراً دے دیں گے۔ اگر میں ڈیڑھ سو آدمیوں کو کہوں کہ ایک ایک ہزار پونڈ دے دو تو ڈیڑھ سو آدمی آسانی سے جماعت میں دے دے گا لیکن اس میں کچھ فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں ۔ ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس طرح غرباء محروم رہ جاتے ہیں بعض خصوصی تحریکات کو چھوڑ کر عمومی طور پر میں ایسی تحریک ہی پسند کرتا ہوں جس میں تمام غرباء کو ضرور حصہ مل جائے ۔ جہاں تک قرآن کریم کی اشاعت کا تعلق ہے اس لحاظ سے بھی یہ تحریک گھلی ہے کہ یہ سلسلہ تو اب ختم ہونے والا ہے ہی نہیں ۔ حضرت مصلح موعود نے پہلے سے جماعت میں یہ تحریک کر رکھی ہے کہ جو چاہے اپنے سال کی پہلی آمد یا مہینے کی پہلی آمد یا اور خوشی کے موقع پر خدمت قرآن کے لئے دیتا رہے یا مساجد کی تعمیر کے لئے دیتا ر ہے۔ پس جہاں تک خدمت قرآن کا تعلق ہے تو ضروری تو نہیں هر ۔ ہر شخص فرنچ خدمت قرآن میں شامل ہو۔ وہ بہر حال ایک کھلی تحریک ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور بھی تراجم کی توفیق عطا فرما رہا ہے اس میں انشاء اللہ عام تحریکیں بھی چلیں گی ۔ اس لئے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس تحریک کو آپ تک پہنچا کر ختم کرتا ہوں ۔ کتنادیں؟ کیسے دیں اور کیا دیں؟ اس مفہوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ فرماتے ہیں: ” تم اے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو۔“ عجیب الفاظ سے یاد کیا ہے آپ کو اور مجھے اور ہم سب کو ۔ عجیب شان ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے کیسا جذب کا کلام عطا فرمایا ہے۔ کون ہے جو کہہ سکتا ہے کہ جھوٹے کی زبان کے یہ کلمات ہیں سچ کے دل کے سرچشمے سے پھوٹنے والی صداقت ہے۔ فرماتے ہیں: تم اے عزیز و! میرے پیارو! میرے درخت کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالٰی کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہواوراپنی زندگی ، اپنا آرام ، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری