خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد ۴ 605 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء جماعت کی غیر معمولی مالی قربانیاں اور اردو رسم الخط والے کمپیوٹر کے لئے مالی تحریک ( خطبہ جمعہ فرموده ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الصف: ۱-۱۳) اور پھر فرمایا : گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے چند اور باتوں کے علاوہ بعض ایسے بد نصیبوں کا بھی ذکر کیا تھا جو قرآن کریم کے بیان کے مطابق تکذیب کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیتے ہیں۔ یعنی جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آنے کا دعویٰ کرے اور یہ اعلان کرے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری بھلائی اور بہبود کے لئے بھیجا ہے تو اس موقع سے بظاہر فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں یہ عجیب ترکیب سوجھتی ہے کہ اس دعوے کو اپنے رزق کے حصول کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور پھر جتنا زیادہ اس کی مخالفت میں آگے بڑھیں ، جتنی زیادہ اسے گالیاں دیں، جتنے جھوٹے الزام اس پر لگائیں اور جتنا افتراء اس کے خلاف کریں اتنا ہی لوگ پھر ان لوگوں کو پیسے دیتے ہیں۔ قوم کا بگڑا ہوا مزاج ایک نہایت ہی خطرناک صورت