خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 600 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 600

خطبات طاہر جلد ۴ 600 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۵ء محبت میں ایسا کر رہا ہوں تمہیں بچانے کی خاطر ایسا کر رہا ہوں اگر ان کو اس حال پر چھوڑ دیا گیا يُبَدِّلَ دِينَكُمْ اور اس کے ساتھی تمہارا دین ضرور تبدیل کر دیں گے۔ تبلیغ کے ذریعہ تم پر غالب آجائیں گے اور یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (المومن: ۲۷) یا پھر اس کے نتیجہ میں فساد جاری ہوگا ۔ جب بھی یہ تبلیغ کریں گے فساد پھیلے گا کہاں تک حکومت اب ان فسادات کا مقابلہ کرے ۔ پس یہی دو جواب ہیں جو حکومت پاکستان کی طرف سے ساری دنیا کی Embassies کو ، تمام دنیا کی حکومتوں کو تحریراً دیئے جاچکے ہیں اور ان کی طرف سے تحریر یہ ریکارڈ ہم تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کی شان کسی تفصیل سے یہ تاریخ انبیاء کا ذکر کرتا ہے اس کے دہرائے جانے کا ذکر فرماتا ہے اور اپنے اندر یہ واضح اشارے رکھتا ہے کہ یہ بات جو ہم کہہ رہے ہیں یہ اس ترتیب سے جو ہو گی یہ آئندہ ہونے والی ہے۔ گزشتہ زمانے کی اور ترتیب تھی واقعات یہی تھے۔ اب آئندہ آنے والے زمانے میں واقعات یہی ہوں گے مگر ترتیب بدلی جائے گی اور ان واقعات کے مطابق آیات کی ترتیب بدل دی۔ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ پھر جس کے زمانے میں ہونے تھے پورے اس کو الہا ما بتایا کہ تیرے زمانے میں یہ واقعہ ہونے والا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ دونوں باتیں بیان فرمائیں کہ تجھ پر ایسا وقت آئے گا جو موسیٰ کا زمانہ ہوگا اور فرمایا کہ تیرے متعلق ایک کہنے والا یہ کہے گا کہ مجھے موقع دو، مجھے چھوڑو ذرا، میں اس کو قتل کر کے دکھاتا ہوں اور مصلح موعود ان واقعات سے مدتوں پہلے دسیوں سال پہلے کھول کر لکھ چکے ہیں کہ یہ واقعات آئندہ کسی خلیفہ کے زمانہ میں ہوں گے۔ اور وہ ہونگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نمائندگی میں ۔ یہ ہے قرآن کریم کہ کس شان سے کسی تفصیل سے تصویریں بناتا ہے اور پھر ان کو اس نئے دور میں ظاہر کرنے کی ضمانت دیتا ہے اور کوئی مفسر اس کے منہ میں یہ باتیں نہیں ڈالتا خود قرآن کریم قطعی اشارے اس بات کے رکھتا ہے کہ یہ ماضی کا قصہ تھا، یہ مستقبل میں ہونے والے واقعات ہیں اور اس تفصیل کے ساتھ یا اس تبدیلی کے ساتھ رونما ہوں گے۔ پھر آخر پر قرآن کریم فرماتا ہے اور یہاں میں اس مضمون کو ختم کروں گا کہ جب یہ مذہبی مخالفت حکومتوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے اور ایک جماعت بظاہر کمزور ہوتے ہوئے جو