خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد ۴ 591 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۵ء ہو کیونکہ تمہارے اعمال گندے ہیں۔ اپنی کتابوں کی رو سے گندے ہیں۔ اس لئے جو اس بات کے اہل ہیں شایان شان ہے جن کو کہ وہ پرانی تعلیمات پر بھی عمل کریں جو ان میں سے باقی رکھنے کے لائق ہیں اور نئی تعلیمات پر بھی عمل کریں تمہارا کوئی حق نہیں ان کو کاٹنے کا۔ چنانچہ اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے : وَتَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (المائده : ۶۳) کہ تو ان میں سے اکثر کو اس حال میں پائے گائيُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ کہ گناہوں کی طرف بڑھنے میں جلدی کرتے ہیں ایک دوسرے پر مسابقت کرتے ہیں، وَالْعُدْوَانِ اور نا فرمانیاں اور Transgression حدود سے تجاوز کرنا اس میں بھی وہ بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ وَأَكْلِهِمُ السُّحْت اور حرام خوری کی جتنی قسمیں ہیں ان میں وہ ملوث ہو چکے ہیں، ہر قسم کے حرام مال ظلم کے ساتھ کھانے کے طریق ان میں رائج ہو گئے ہیں۔ غریبوں کا مال لوٹ رہے ہیں ، دوسروں کی جائیدادیں ہڑپ کر رہے ہیں ، رشوتیں دے رہے ہیں رشوتیں کھا رہے ہیں۔ چوری چکاری ، افیم، نشے کی ٹری ایسی جو رسم کی گندگی کو نمدینے والی عورتیں بینا، اغوا کرنا، ما کھانے کی جتنی بھی گندی ہیں، فرماتا ہے اس میں تم آگے بڑھ رہے ہواور نیکیوں کے محافظ بنتے ہو؟ وہ جو نیکی پر عمل کرتے ہیں اس پر اعتراض کر رہے ہو۔ کیونکہ تمہارا اعتراض یہ ہے کہ بائبل کی نیک باتوں پر کیوں عمل کرتے ہو تم کیونکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ بائبل کا اعتراض ہوتا، یہ میرا مطلب ہے، اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بائبل پر عمل کرتے تھے تو نیک باتوں پر ہی عمل کرتے تھے۔ تو قرآن کریم کی رو سے یہ اعتراض اس قوم کی طرف سے اٹھایا جا رہا تھا گویا کہ، اٹھانا چاہئے تھا کہ تم عجیب لوگ ہو بائبل کی نیک باتوں پر کیوں عمل کر رہے ہو۔ قرآن فرماتا ہے تم بائبل کی بد باتوں پر عمل کر رہے ہو جن سے روک رہی ہے اور حیا نہیں کر رہے اور نیکوں کو روک رہے ہو کہ بائیبل کی اچھی باتوں پر عمل نہ کرو یہ مضمون بنتا ہے۔ لیکن اس وقت یہ نقش ظاہر نہیں ہوا، آج ظاہر ہو رہا ہے اور آج بائبل کی جگہ قرآن کریم نے لے لی ہے۔