خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 583

خطبات طاہر جلد ۴ 583 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۵ء دینی مخالفت کا ارتقاء، تاریخ میں قدر مشترک پر پہلی بار مخالفت، موجودہ دور موسوی ( خطبہ جمعہ فرموده ۱۵ جولائی ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں: قُلْ يَا هُلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَسِقُوْنَ (المائده : ۶۰) گزشتہ خطبہ میں یہ ذکر چل رہا تھا کہ قرآن کریم نے گزشتہ قوموں کی تاریخ کو اس تفصیل کے ساتھ محفوظ فرمایا ہے اور ابرار رمایا ہے اور ابرار کی بھی اور اشرار کی بھی ایسی واضح اور کھلی کھلی تصویر میں اتاری ہیں کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے قرآن کریم اس پہلو سے ایک آئینہ جہاں نما ہے ۔ کل عالم میں خواہ شمال ہو یا جنوب یا مشرق ہو یا مغرب ، وہ قو میں بھی جن کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے اور وہ قو میں بھی جن کا قرآن کریم میں نام بنام ذکر نہیں ملتا، اس کتاب میں اپنے پہلوں کی تصویر میں دیکھ سکتی ہیں۔ نیکوں کی بھی اور بدوں کی بھی اور وہ نقوش اتنے واضح ہیں کہ ان کو دیکھ کر کسی شخص کے لئے یا کسی قوم کے لئے یہ پہچاننا کچھ مشکل بات نہیں رہتی کہ ہماری تصویر اور ہماری شکلیں کن لوگوں سے مل رہی ہیں۔ لیکن یہ عجیب قومی المیہ ہے۔ جسے دیکھ کر یا حسرة على العباد کے الفاظ منہ پر جاری ہو جاتے ہیں کہ وہ لوگ جن کی تصویریں بڑی تفصیل کے ساتھ اور بڑی حفاظت کے ساتھ محفوظ رکھی گئیں کے