خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد ۴ 570 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۸۵ء فطرت صحیحہ رکھتا ہو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ تو اکثر چیزوں میں بگاڑ ہے ؟ ہے تبھی فرمایا تبدُونَهَا تم اس میں سے تو ظاہر کرتے ہو کچھ وَ تُخْفُونَ كَثِيرًا اکثر کو تم چھپا لیتے ہو۔ ایک آیت کو ظاہر کر دیا اور دس آیات کو چھپا لیا۔ ہر مضمون کے ساتھ پھر یہی سلوک جاری رہتا ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں خاتم النبیین کی جو آیت نازل ہوئی اس کو ہر سٹیج پر چڑھ کے اور ہر منبر سے بیان کرتے ہیں اور مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ (النساء: ۷۰) والی آیت کو چھپاتے ہیں اسکو ظاہر نہیں کرتے، اس کا ذکر ہی نہیں کرتے ۔ اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ (الحج: ۷۶) والی آیت کو چھپاتے ہیں اور اس کا کچھ ذکر نہیں کرتے مِيثَاقَ النَّبِينَ (آل عمران : ۸۲) والی آیت کو چھپا لیتے ہیں اور اس کا کچھ ذکر نہیں کرتے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوْارَ بنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ إِلَّا تَخَافُوا ( حم السجدہ : ۳۱) والی آیت کا ذکر نہیں کرتے اس کو چھپا لیتے ہیں ۔ غرضیکہ جہاں بھی رسالت کے ایسے مفہوم کو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں جولوگ عروسه صلى الله ترقی کرتے ہیں اور جو اطاعت میں ترقی کرتے ہیں ان پر نہ وحی بند ہے اور نہ رسالت بند ہے یعنی صلى الله صلى الله علیه غلامان محمد مصطفی علی کے لئے کچھ بھی بند نہیں۔ غلامان محمد مصطفیٰ ﷺ پر سب کچھ بند کرنے لئے ایک آیت کا ایک مفہوم انہوں نے بنا لیا ہے وہ پکڑ کے بیٹھ گئے ہیں اور وہ تمام آیات جن میں ان کے غلط مفہوم کی نفی ہے۔ ان کو چھپاتے لیتے ہیں تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا۔ صلى الله پس جس پہلو سے بھی دیکھیں ان آیات میں بڑی تفصیل کے ساتھ آج کی قوم کا نقشہ کھینچا ہوا ہے ۔ حدیثوں سے بھی یہی سلوک ہے۔ ایک ٹیڑھا پن ہے طبیعت کا جو ہر جگہ وہی منظر دکھاتا ہے۔ چنانچہ جہاں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں دجال آئیں گے وہ جھوٹے ہونگے ان میں سے ے ہر ہرا ایک یہ سمجھے کہ میں نبی اللہ ہوں حالانکہ وہ نبی اللہ نہیں ہے ) صحیح مسلم کتاب الفتن حدیث نمبر ۵۲۰۵ ) ، اس حدیث کا تمام مساجد سے تمام منبروں سے تمام جلسوں پر اس میں بہت زیادہ غلو کے ساتھ ذکر کرتے چلے جاتے ہیں ، کرتے چلے جاتے ہیں اور وہ ساری حدیثیں چھپا جاتے ہیں جن میں اس مضمون کی وضاحت موجود ہے۔ مثلاً یہ ذکر نہیں کریں گے اس وقت کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عیسی ابن مریم نبی اللہ کے طور پر آئے گا آپ نے یہ بھی فرمایا ہے دجال آئیں گے مگر عیسیٰ کو دجال نہ