خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد ۴ 537 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء چنانچه قرآن کریم سوره ا سورہ النمل آیت ۳۵ میں ملکہ سبا کا یہ حکیمانہ قول درج فرماتا ہے اور اسے ا محفوظ رکھنے میں حکمت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ قول پسند آیا۔ وہ نبی نہیں تھی ، خدا کے مقربین میں سے نہیں تھی لیکن وہ صاحب حکمت ملکہ تھی ۔ اس نے ایسی اچھی بات کہی کہ خدا تعالیٰ نے اس کلام کو ہمیشہ کے لئے قرآن کریم میں محفوظ فرمالیا۔ تحسین کے رنگ میں نہ کہ ایک بری بات کے اظہار کے طور پر۔ جب وہ اپنے روساء سے مشورہ کر رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم مقابلہ کریں گے اور ہم اس کے لئے تیار ہیں ہمیں تمہاری طرف سے حکم چاہئے ۔ وہ جانتی تھی کہ حضرت سلیمان جیسے جلال کے بادشاہ سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تو قوم کو سمجھانے کے لئے اس نے ایک اصول بیان کیا۔ کہتی ہے: قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوا سے اعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (امل : ۳۵) کہ دیکھو جب بھی دوسرے بادشاہ کسی دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے مفاد کا یہ تقاضا ہوا کرتا ہے کہ وہ کمینے لوگوں کو اوپر لے آئیں اور معز زلوگوں کو نیچے گرادیں۔اس ا یدونم پیدا ہوسکتا تھا نعوذ بالله من ذالک که ملکہ سبا حضرت سلیمان علیہ الصلوة واله الزام لگا رہی ہے۔ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کو دیکھیں کہ کس طرح اس الزام کی یکدم نفی فرمادی کیونکہ آخر پر وہ ملکہ کہتی ہے وَكَذَلِكَ يَفْعَلُوْنَ یہ ہمیشہ سے ایک دستور ہے اس میں سلیمان کا کوئی قصور نہیں۔ یعنی یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ میں تو اس کو جانتی بھی نہیں اس کو کہ وہ کسی قسم کا بادشاہ ہے لیکن میں یہ جانتی ہوں کہ دستور زمانہ یہی ہے اور اسی طرح چلا آیا ہے کہ جب غیر قو میں حاکم ہوا کرتی ہیں تو وہاں کے کمینے لوگوں کو اوپر کر دیا کرتی ہیں اور شرفاء کو رذیل بنا دیا کرتی ہیں ۔ پس ایسے ملک کی بڑی بد قسمتی ہے جہاں نگینے لوگ تو تہ خاک سورہے ہوں اور کمینے لوگ حکمرانی کر رہے ہوں اور یہی ان کی حکومت کی قابلیت کا سب سے بڑا پاسپورٹ ہو کہ ان کے اندر شرافت کی قدریں باقی نہیں رہیں اور ایسے لوگ مجبور ہوتے ہیں ظلم وستم پر کیونکہ ظلم وستم کے سواوہ باقی نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک ایسی فطری بات ہے کہ جسے وہ اگر کوشش بھی کریں تو وہ اسے ہٹا نہیں سکتے ۔ یہ جو مظالم کا سلسلہ ہے شہادتوں کے علاوہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ ہر طرف جاری وساری