خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 535

خطبات طاہر جلد۴ 535 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء گزشتہ کچھ عرصہ میں یہ ظلم وستم کا رخ سندھ کی ط سندھ کی طرف پھرا ہوا ہے اور اسے خاص طور پر علماء طور پر علماء وقت نے احمد یوں پر مظالم کے لئے منتخب کر لیا ہے۔ پیچھے ۔ نواب شاہ کے ایک بزرگ جماعت احمدیہ احمدیہ کے ایک معزز خادم عبدالرزاق صاحب کی شہادت کی اطلاع ملی تھی جنہیں بڑی بے دردی کے ساتھ دن دہاڑے قتل کیا گیا اور اس کے اوپر کسی قسم کی کوئی شنوائی نہیں ۔ اسی طرح قتل و غارت کا پیغام دینے والے مولوی اپنے خطبات میں دن رات ساری امت کو قتل پر اکسا رہے ہیں اور نواب شاہ میں خصوصیت کے ساتھ مسلسل یہ جاری ہے اور بعض مولوی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہم ضامن ہیں تمہیں جنت کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور ایسی ایسی ناپاک باتیں ان کے دماغ سوچتے ہیں یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ جب تم قیامت کے دن پیش ہو گے تو نعوذ بالله من ذالک حضرت محمد مصطفی علی تمہارے استقبال کے لئے جنت کے دروازے تک پہنچیں گے کہ تم نے ایک مرزائی کو قتل کر دیا۔ یہ ان کا مبلغ علم ہے۔ یہ ان کی حضور اکرم ﷺ کے لئے غیرت ہے، یہ مقام مصطفیٰ ہے جو ان کے ذہنوں نے ایجاد کر رکھا ہے۔ نور سے ان کو کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ ان کو تصور بھی نہیں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ذات تھے، کیسا پاک وجود تھا، بنی نوع انسان کے لئے کیسی رحمت تھے، اپنوں کے لئے بھی اور غیروں کے لئے بھی ۔ وہ نور کا ایک جاری سوتا تھا نہ خشک ہونے والا ہمیشہ ہمیش جاری رہنے والا ہے، کل عالم کو سیراب کرنے کے با وجود بھی جو خشک نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک ایسی سلسبیل تھی جو خدا کی طرف سے نازل فرمائی گئی، ایسی کوثر تھی جو رحمتوں کا پیغام لے کر ساری دنیا کے لئے ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ہمیش جاری رہنے کے لئے اس کی خوشخبری دی گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب ہو کر یہ ظالم اس ظلم کی تعلیم سے باز نہیں آرہے۔ اور ابھی حیدر آباد سے ہمارے ایک بہت ہی بزرگ اور معزز بھائی عقیل بن عبدالقادر صاحب کی شہادت کی اطلاع ملی ہے ۔ عبدالرزاق صاحب بھی بڑے خوش خلق بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والے، ملنسار اور منکسر المزاج تھے اور ڈاکٹر عقیل بن عبدالقادر بھی بہت ہی اعلیٰ صفات حسنہ سے متصف تھے۔ آنکھوں کے ڈاکٹر تھے ، انہوں نے بارہا غرباء کی آنکھوں کے مفت علاج کے