خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 526 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 526

خطبات طاہر جلد۴ 526 خطبہ جمعہ ۷ / جون ۱۹۸۵ء ہوئے اگر یہ ملک ٹوٹتا تو ہم فخر سے جانیں دیتے اور خوشی سے اس بات کو قبول کرتے کیونکہ مجاہد کی موت بھی قابل فخر موت ہوتی ہے مگر ظلم یہ ہے کہ اس کلمہ کو و مٹاتے مٹا - ہوئے اس ملک کے مٹنے مٹنے ۔ کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں ، اس کلمہ کی مخالفت کرتے ہوئے اس ملک کے مٹنے کے آثار ظاہر ہورہے ہیں اگر یہ موت مقدر ہے تو بہت ہی ذلیل موت ہے، نہایت ہی درد ناک موت ہو گی اس ملک کی کہ اسلام کے نام پر بنایا اور اسلام کی بنیادوں کو مٹاتے ہوئے آپ مٹ گیا۔ اس لئے دوہرے فکر کے ساتھ دعاؤں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ہمیں اس پاک وطن کی طرف سے خوشیاں دیکھنی نصیب فرمائے ۔ آمین خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: (بقیہ ) خطبہ ثانیہ پڑھنے سے پہلے یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں ہمارے سلسلہ کے ایک پرانے بزرگ جو سیرالیون جماعت کے ابتدائی مخلصین میں سے ہیں اور بہت خدمت کی انہوں نے جماعت کی وہاں ۔ جماعت کو پھیلانے اور مستحکم کرنے میں بہت عظیم کردار ادا کیا ہے ، الحاج مکرم علی روجرز صاحب(Ali Rogers وہ 95 سال کی عمر میں 23 مئی کو وفات پاگئے ۔ مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ایمان ، تقوی اور اخلاص میں انہوں نے مسلسل ترقی کی ہے۔ 1939ء میں یہ احمدی ہوئے تھے اور ہر سلسلہ کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دی ہے ۔ ایک دفعہ عیسائیوں نے پریس میں جماعت کا لٹریچر طبع کرنا بند کر دیا اور کوئی پریس نہیں تھا سوائے عیسائی پریس کے اور جماعت کے پاس وسائل بھی نہیں تھے کہ وہ فوری طور پر کچھ کر سکیں۔ تو علی روجر صاحب نے فوراً بو (Bo) شہر میں ایک بہت ہی عظیم الشان وسیع و عریض مسجد کے لئے قطع پیش کیا پھر مالی قربانی کی اور کہا کہ یہاں اپنا پریس لگاؤ اور ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کس طرح روک سکتے ہیں ۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں پھر جماعت احمد یہ کی اشاعت کا کام رکا نہیں۔ تو یہ عاشق تھے سلسلہ کے اور موصی بھی تھے اور بہت وسیع ان کا احسان کا معاملہ تھا ماحول میں ۔ جب احمدی ہوئے تو ان کی دس بارہ بیویاں تھیں رواج کے مطابق ۔ بلاتر ددفوراً باقیوں کو بڑے احسان کے ساتھ رخصت کیا اور چار رکھیں اور کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میرے رواج پر اسلام کا رواج بہر حال فوقیت رکھتا ہے۔ تو بہت نیک صفت انسان تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا تھے ان سے بہت پیار تھا۔ مبلغ نے لکھا مجھے بڑا صدمہ ہوا اس بات سے کہ بڑی حسرت تھی کہ میں چوتھے