خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد۴ 46 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء کہ تمہیں ٹھوکر نہ لگ جائے ، صدمہ نہ پہنچ جائے ان کو علم نہیں ہے کہ میں تو اس مٹی کا بنا ہی نہیں ہوا ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اللہ سے میرا عاجزی اور انکسار کا جہاں تک تعلق ہے خدا سے ناراضگی اور مایوسی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جہاں تک امنگوں کا تعلق ہے اپنے رب کی رحمت سے امیدوں کا تعلق ہے اپنے استحقاق کے نتیجہ میں نہیں محض اس لئے کہ وہ رحمن اور رحیم ہے میری امیدوں کی انتہا ہی کوئی نہیں ہے، امنگوں کا کوئی آخری کنارہ نہیں ہے۔ لیکن جہاں تک رضا اور تسلیم کا تعلق ہے میرا سر تو اس کے پاؤں کی خاک سے اُٹھ ہی نہیں سکتا کبھی اس لئے اس سے کس طرح کا صدمہ ہو سکتا ہے، اس سے کیسے انسان ٹھوکر کھا سکتا ہے حضرت مصلح موعود نے جو بات کہی تھی وہی بات آج بھی سچی ہے آپ فرماتے ہیں: ۔ وہ میرے دل کو چٹکیوں میں مل مل کر یوں فرماتے ہیں عاشق بھی کبھی معشوق کا شکوہ اپنی زبان پر لاتے ہیں میں ان کے پاؤں چھوتا ہوں اور دامن چوم کے کہتا ہوں دل آپ کا ہے جاں آپ کی ہے پھر آپ یہ کیا فرماتے ہیں ( کلام محمود صفحه ۱۷۳) پس اے میرے خدا! اگر ساری زندگی مجھے بیابانوں میں سفر کرتے بسر ہو جائے اور ایک لمحہ بھی چین نہ رہے تب بھی خدا کی قسم میں تیری رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوں گا اور یہ جماعت تیری رحمت سے انشاء اللہ بھی مایوس نہیں ہوگی تو خوشخبریاں دے رہا ہے ہم ایمان لاتے چلے جا رہے ہیں تو کہتا ہے کہ تمہاری فتح کے دن آ رہے ہیں ہم کہتے ہیں امنا و صدقنا وہ ضرور آئیں گے اور کوئی نہیں جو ان کو ٹال سکتا ہے مگر جہاں تک انتظار کا تعلق ہے تو نے جتنا انتظار کروانا ہے کروا اور دیکھے گا اے خدا!اور تو ہی ہمیں توفیق بھی عطا فرمائے گا کہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس انتظار میں کبھی کوئی شکوہ کا کلمہ ہو زبان پر نہیں لائیں گے۔ یہ تو ہے تسلیم ورضا کی کیفیت اور جہاں تک امنگوں اور امیدوں کا تعلق ہے ان میں ایسی سر بلندی خدا نے بخشی ہے کہ کوئی دنیا کی طاقت ان کا سر جھکا ہی نہیں سکتی ، ناممکن ہے، مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ہر روز میں خدا کی فتح کو قریب آتے دیکھ رہا ہوں ، ان علامتوں کی وجہ سے نہیں جو برعکس نتیجے ظاہر کر رہی ہیں بلکہ ان مبشرات کے نتیجہ میں ، ان کشوف کے نتیجہ میں تمام دنیا پر جو ترشح