خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 519
خطبات طاہر جلد ۴ 519 خطبہ جمعہ ۷ / جون ۱۹۸۵ء کر غیر ملکوں سے جو سودے ہوتے ہیں تو خراب مال لے لیا جاتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ساری مشینریاں پھر جو بظاہر بیسیوں سال تک آرام سے جاری رہنی چاہئیں وہ ایک دو سال میں خراب ہونے لگ جاتی ہیں ۔ تمام واپڈا کی حالت اس وقت اتنی خطرناک ہو چکی ہے ملک میں کہ جو آنے والے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جب آپ آئے تھے ایک ڈیڑھ سال پہلے اس وقت کا پاکستان ہی نہیں رہا۔ پہلے تو دن میں ایک گھنٹہ دو گھنٹہ لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی تو شور پڑ جاتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے اب تو دس بارہ گھنٹے لوڈ شیڈ نگ عام دستور ہے اور جہاں بجلی پر منحصر ہے زراعت وہاں اس نارمل لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں جو زمیندار کو نقصان پہنچے گا اس کا آپ تصور کر لیں ۔ صلى الله اس کے نتیجہ میں جو اقتصادیات تباہ ہوتی ہیں ملکی وہ پھر جرائم کو جنم دیتی ہیں اور جرائم میں پھر یہ شکل بن جاتی ہے کہ پولیس جس سے رشوت لیتی ہے اس کے حق میں اور بعض دفعہ ظالم کے حق میں اور مظلوم کے خلاف مقدمے درج کرنے لگتی ہے ۔ کوئی زندگی کا شعبہ ایسا نظر نہیں آئے گا جہاں آپ کو اطمینان نصیب ہو اور یہ ساری بنیادی ذمہ داری اخلاقی کمزوریوں کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ ہر چیز کا تجزیہ کرلیں ایک لمبا سلسلہ ہے، ایک دن میں قوم کے اخلاق نہیں بگڑا کرتے گزشتہ تھیں پنتیس سال کے اندر مسلسل یہ اخلاق بگڑنے کا ایک رجحان قائم ہوا جو بڑھتا چلا گیا ہے اور اس نے زندگی کے ہر شعبہ پر قبضہ کیا ہے اور علماء کو نظر نہیں آرہا۔ تم دین کے محافظ تھے تم اسلام کی محبت کے دعوا یدر تھے، تمہارا کام تھا کہ شور مچا دیتے سارے ملک میں گلی گلی پھرتے گھر گھر دروازے کھٹکھٹاتے کہ محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب ہو کر تم یہ ظلم کر رہے ہو اپنے اوپر اور اپنی قوم پر اور اپنے دین پر ۔ کوئی رگ حمیت ان کی نہیں پھڑکتی ، کوئی ان کو ظلم محسوس نہیں ہوتا، کوئی خطرہ نظر ہی نہیں آتا اور سارا نظام مالیئے کا نظام ، لین دین کا سارا نظام کوئی ایک بھی نظام ایسا نہیں جس کا زندگی سے تعلق ہو اور وہ تباہ و بر باد نہ ہو چکا ہو بداخلاقی کی وجہ سے۔ جب قوم میں یہ کردار پیدا ہو جائے یا کردار نہ رہے کہنا چاہئے تو پھر لا زما پیرا سائٹس بیٹھتے ہیں، یہ طبعی نتیجہ ہوتا ہے اس کا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جسم میں دفاع کی قوت نہ رہے اندرونی نظام بگڑ جائے اور جراثیم رحم اور کرم کی خاطر دخل اندازی نہ کریں۔ جراثیم تو ہر وقت ہر جگہ فضا میں موجود ہیں، ہر قسم کے موجود ہیں صحت مند وجودوں پر حملہ نہیں کر رہے کیونکہ ان کا اندرونی درست ہوتا ہے، ان کا اندرونی نظام درست ہے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ صالح تعاون دفاع