خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 466

خطبات طاہر جلد۴ 466 خطبه جمعه ۷ ۱ رمئی ۱۹۸۵ء جب جماعت کی مخالفت کرتے تھے تو علی الاعلان بڑے فخر کے ساتھ ان میں سے بعض اس کی تکذیب کے مرتکب ہوتے تھے ۔ چنانچہ مولوی اختر علی خان ابن مولوی ظفر علی خان صاحب نے ۱۹۵۲ء میں جب احمدیوں کے خلاف تحریک چلائی گئی تو بڑے فخر سے یہ بات پیش کی ۔ وہ کہتے ہیں۔ وو مجلس عمل نے گذشتہ تیرہ سو سال کی تاریخ میں دوسری مرتبہ اجماع امت کا موقع مہیا کیا ہے۔ آج مرزائے قادیان کی مخالفت میں امت کے ۷۲ فرقے متحد و متفق ہیں ۔ حنفی اور وہابی ، دیو بندی، بریلوی، شیعہ سنی اہلحدیث سب کے علماء تمام پیر اور تمام صوفی اس مطالبہ پر متفق و متحد ہیں کہ مرزائی کافر ہیں انہیں مسلمانوں سے ایک علیحدہ اقلیت قرار دو۔“ 66 زمیندار ۵ رنومبر ۱۹۵۲ء صفحه۲ کالم نمبر ۶) یعنی ۷۲ فرقے مسلمان اور ایک غیر مسلم ہے جو ناری ہے۔ اور پھر جب ۷۴ء میں یہ ظالمانہ واقعہ ہو گیا تو اس کو اپنی تائید میں آج پیش کر رہے ہیں اور سمجھ نہیں رہے کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں ۔ اس وقت ۱۹۷۴ء میں نوائے وقت لاہور نے بڑی خوشی سے اور بڑے فخر کے ساتھ بہتر فرقوں کا اجماع کی شہ سرخی کے ساتھ اعلان کیا ۔ دیکھیں کس طرح خدا جھوٹا کرتا ہے لوگوں کو ۔ ان کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ خدا کی تقدیر ہم سے کیا کھیل کھیل رہی ہے يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ وَ مَا يَخْدَعُوْنَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُونَ (البقرة : ١٠) اللہ ان کے مکروں اور ان کی تدبیروں کو ان پر الٹا دیتا ہے۔ چنانچہ نوائے وقت کا یہ نوٹ اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے۔ اسلام کی ساری تاریخ میں اس قدر پورے طور پر کسی اہم مسئلہ پر کبھی اجماع امت نہیں ہوا ۔ اجماع امت میں ، ا اجماع امت میں ملک کے سب۔ سب سے بڑے بڑے علماء دین اور حاملان شرع متین کے علاوہ تمام سیاسی لیڈر اور ہر گروپ کا سیاسی راہنما کما حقہ متفق ہوئے ہیں۔ اور صوفیائے کرام اور عارفین باللہ برگزیدگان تصوف و طریقت کو بھی پورا پورا اتفاق ہوا ہے۔ قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر جو بھی ۷۲