خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 464
خطبات طاہر جلد۴ 464 خطبہ جمعہ ۷ ۱ رمئی ۱۹۸۵ء آپ کو ایک فرقہ ہمارا رہ گیا ہے جس کو آج یہ حیثیت حاصل ہے اجنبی اور بیگا نہ ہونے کی مگر اللہ کی شان دیکھیں کس طرح ان کے منہ سے حق کہلوا دیا اور ان لعنتیں ڈالنے والوں کی طرف سے خدا نے دعائیں دلوادیں۔ خدا کی تقدیر نے زبر دستی ان کے منہ سے آپ کو رحمتیں دلوادیں۔ ان کو تسلیم کرنا پڑا اور حدیث نبوی یاد آئی تو یہ لوگ حق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ پس جیسا کہ آنحضرت ما نے فرمایا تھا اسلام غربت سے شروع ہوا تھا پھر غریب ہو جائے گا جیسا کہ پہلے غریب تھا فطوبی للغرباء پس خوشخبریاں اور مبارکیں ہوں ان غرباء کو جو آخری زمانہ میں اسلام کی خاطر غریب الوطن ہو جائیں گے اور غریب کہلائیں گے۔ اسی حوالے میں ترجمان القرآن آخر میں لکھتا ہے: پس جو جماعت محض اپنی کثرت تعداد کی بناء پر اپنے آپ کو وہ دو جماعت قرار دے رہی ہے جس پر اللہ کا ہاتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لئے تو اس حدیث میں امید کی کوئی کرن نہیں کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طور پر بیان کر دی گئی ہیں ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت ا اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہو گی دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی ۔“ صلا 66 ترجمان القرآن، جنوری، فروری ۱۹۴۵ء صفحه ۱۷۵-۱۷۶ مرتبہ سیدابوالاعلیٰ مودودی ) اب اس بات کو اچھی طرح ملحوظ رکھ لیں کہ آنحضرت علیہ فرماتے ہیں جب امت مسلمہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی اور ایک تہترویں جماعت پیدا ہو گی اور وہ حق پر ہوگی تو بہتر فرقے لازماً جھوٹے ہوں گے ۔ کیونکہ سچے ناری نہیں کہلا سکتے ۔ ایک ہی جماعت سچی ہے اور اسے جماعت قرار دیا ہے ۔ کل تک جماعت احمدیہ کے تمام مخالفین خواہ سنی تھے خواہ شیعہ تھے اس حدیث کی صحت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ وہابیہ فرقہ کے امام تو کہتے ہیں کہ مسلمان وہی ہے جو اس حدیث کو سچا مانتا ہے جو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں ۔ پس شیعہ کیا اور سنی کیا ، وہابی کیا اور بریلوی کیا یہ تمام لوگ اس حدیث پر متفق ہیں اور تسلیم کرتے چلے آرہے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے سچ فرمایا ہے ۔ مگر ے رستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان پر جو قیامت ٹوٹی وہ یہ تھی کہ اس دن ان سب نے جماعت احمد یہ کی تکذیب کے شوق میں نعوذباللہ من ذلک حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تکذیب سے دریغ نہیں کیا اور بڑی جرات اور بے حیائی کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ یہ حدیث معاذ اللہ جھوٹی تھی ، ہمارے بزرگ جھوٹے صلى الله عروسه صلى الله