خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 460

خطبات طاہر جلد ۴ 460 خطبہ جمعہ ۷ ۱ رمئی ۱۹۸۵ء صلى الله عروسه یعنی خیر القرون سے وہ زمانہ مراد نہیں جو آنحضرت ﷺ کے اپنے الفاظ کے مطابق جھوٹ کی اشاعت کا زمانہ ہے۔ بڑی عمدہ اور پختہ بات ہے اس کے خلاف کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ۔ سواد عظم کے متعلق خود حضور اکرم نے فرمایا لیکن ساتھ یہ بھی تو فرم یہ بھی تو فرمادیا کہ خیر القرون تین زمانے ہیں یا تین نسلوں کا نام ہے۔ اس کے بعد کذب کی اشاعت شروع ہو جائے گی اور اندھیرا پھیل جائے گا۔ اس زمانہ کو حضور اکرم نے خیر القرون نہیں فرمایا۔ اس لئے جو زمانہ خیر القرون نہیں ہے بلکہ جھوٹ کی کثرت کا زمانہ ہے۔ اس کو سواد اعظم کہہ دینا اور اس سے شرعی استنباط کرنا بالکل بے بنیاد بات ۔ ہے پھر مولوی صاحب لکھتے ہیں۔ دو مجھے تو یہ بات بہت پسند آئی ۔ واقعی کام کی بات ہے۔“ یہ ہے تو کام کی بات لیکن ہمارے کام کی بات ہے۔ آپ کے کام کی بات نہیں ہے اور وہ جو صلى الله عروسه زمانہ ہے جس کو حضور ا کرم اشاعت کذب کا زمانہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے متعلق بھی سن لیجئے کہ اس زمانہ کی اکثریت کے کیا حالات ہوں گے۔ عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لیا تین علی امتی مااتی علی بنی اسرائیل حذو النعل بالنعل حتى ان كان منهم من اتى امه علانية لكان في امتي من يصنع ذلك وان بنى اسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة و تفترق امتى على ثلاث و سبعين ملة كلهم في النار الاملة واحدة قالواو من هي يا رسول الله قال ما انا عليه واصحابی۔“ (ترمذی ابواب الایمان باب افتراق هذه الامة حدیث نمبر : ۲۵۶۵) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا ۔ بنی اسرائیل بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ایک فرقے کے سوا