خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 430
خطبات طاہر جلد ۴ 430 خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۸۵ء کے مومن بندے افتتاح کیا کرتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہوا کرتی ہے۔ وہ افتتاح کرتے ہیں بڑی بڑی عظمتوں کا ، وہ افتتاح کیا کرتے ہیں لامتناہی معارف اور علوم کا ، وہ افتتاح کرتے ہیں ایسی ایسی عظیم الشان فتوحات کا جن کا اس وقت افتتاح ہو رہا ہوتا ہے اس وقت عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا اور وہ چھوٹی سی چیز میں یا اس چھوٹی سی تقریب میں ترقیات کے وہ سارے بیج موجود ہوتے ہیں جن سے وہ عظیم الشان تناور درخت جو بننا ہوتا ہے۔ جس نے نشو و نما پا کر ساری دنیا کو ہر یاول پھل اور پھول عطا ہونے ہیں اور اس ایک درخت نے پھیل کر تمام دنیا پر سایہ کر دینا ہے۔ یہ ساری باتیں اس چھوٹے سے بیچ میں موجود ہوتی ہیں ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب جماعت احمدیہ کا افتتاح فرمایا تو وہ اسی قسم کا افتتاح تھا۔ اس میں یہی مثال دی گئی تھی کہ میں جو بیج بو رہا ہوں یہ بظاہر ایک حقیر ، بے معنی اور ایک چھوٹا وٹا سا بیج ہے لیکن ایک وقت یہ تناور درخت کی صورت میں ظاہر ہوگا اور اتنا عظیم الشان درخت ہوگا کہ اس کی شاخیں تمام دنیا پر محیط ہو جائیں گی اور اس کے پھل اور پھول سے تمام دنیا استفادہ کرے گی اور اس کی رحمت کے سائے ساری دنیا پر حاوی ہو جائیں گے ۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ افتتاح حقیقت میں ان سارے امور پر منتج ہوگا۔ کسی کے وہم وگمان میں یہ بات آسکتی تھی کہ قادیان سے ایک شخص جو خود بھی گمنام ہے اور اس کی بستی بھی گمنام ہے ایک عجیب سا دعوی کر رہا ہے، ایک چھوٹی سی جماعت کی بنیاد رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ ساری دنیا پر اس کی شاخیں پھیل جائیں گی اور تمام دنیا پر اس کا سایہ دراز ہو جائے گا اور دور دور سے قو میں آئیں گی اور اس سے فائدہ اٹھائیں گی ۔ اگر اس دعوی کو دنیا کی نظر سے دیکھا جاتا تو ایک دیوانے کی بڑ معلوم ہوتی تھی ۔اسی لئے دنیا خدا تعالیٰ کے انبیاء کو دیوانہ کہا کرتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ بھی سچے ہیں کیونکہ جب ایمان کی آنکھ سے ہٹ کر دیکھا جائے تو وہ دعاوی اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کے انجام کو ان کے افتتاح سے کوئی نسبت ہی نہیں ہوا کرتی ۔ جب لوگ آغاز دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ اس آغاز میں انجام کی تصویر میں دیکھ رہے اور بڑے بڑے دعاوی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت کے دنیا دار لوگ اگر انہیں دیوانہ کہیں تو ان کی نا سمجھی یا بیوقوفی جو بھی آپ کہہ لیں لیکن جب آپ ایمان کی آنکھ سے ہٹ کر دیکھیں گے تو دیوانگی کے سوا اس کا کوئی اور نام نہیں رکھا جا سکتا۔