خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 409
خطبات طاہر جلد ۴ 409 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء گنہر کا تھا، نہ ابراہیم نے کبھی جھوٹ بولا ،نہ یعقوب نے دھوکا دیا، نہ یوسف نے بدی کا ارادہ کیا یا چوری کی یا فریب کیا ، نہ موسیٰ نے ناحق کوئی خون کیا ، نہ داؤد نے کسی کی بیوی ناحق چھینی ، نہ سلیمان نے کسی مشرکہ کی محبت میں اپنے فرائض کو بھلایا یا گھوڑوں کی محبت میں نماز سے غفلت کی ، نہ رسول کریم علی نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ بڑا گناہ کیا، آپ کی ذات تمام عیوب سے پاک تھی اور تمام گناہوں سے محفوظ و مصون ۔ جو آپ کی عیب شماری کرتا ہے وہ خود اپنے گند کو ظاہر کرتا ہے۔“ (دعوۃ الا میر صفحہ ۱۴۹) جماعت احمدیہ کا انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ تصور ہے۔ اس تصور کی بناء پر کیسے ہم کہیں کہ یہ وہی تصور ہے جو تمہارا ہے۔ کیوں ہم یہ نہ کہیں کہ ہمارا رسول اور ہے اور تمہارا اور ۔ ہمارے انبیاء اور ہیں اور تمہارے اور کیونکہ تم نے انبیاء علیہم السلام کے متعلق جو باتیں کہی ہیں اور جو کچھ لکھا ہے وہ سنو تفسیر حسینی از کمال الدین حسین میں لکھا ہے : دو شیطان کا نام فرشتوں میں حارث تھا۔ شیطان نے حضرت آدم سے کہا کہ بیٹے کا نام عبدالحارث رکھو گے تو اس کی پیدائش سہل ہوگی ۔ چنانچہ انہوں نے عبداللہ کی بجائے عبدالحارث رکھ دیا۔ ( تفسير سورة الاعراف آيت لئن اتيتنا صالحًا ) تفسیر جلالین اور معالم التنزیل میں لکھا ہے: حضرت آدم نے شرک کیا“ ( جلالين مع کما لین صفحه ۳۵۳ معالم التنزیل زیر آیت مذکوره ) یعنی دنیا میں پہلا شرک نعوذ باللہ من ذلک حضرت آدم علیہ السلام نے کیا ۔ یہ ان کا نبیوں حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق تفسیر معالم التنزیل میں زیر آیت وَرَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّان کے متعلق تصور ہے۔ (مریم: ۵۸) لکھا ہے۔ حضرت اور لیٹ جھوٹ بول کر جنت میں داخل ہو گئے اور واپس