خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد ۴ 399 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء اور جو افعال قبیحہ گنوائے گئے ہیں انسان ان کو بیان بھی نہیں کر سکتا۔ اگر چہ وہ کسی اور کا کلام ہے لیکن پھر بھی وہ زبان پر لاتے ہوئے شرم آتی ہے مگر اللہ جل شانہ کے متعلق ان لوگوں نے یہاں تک لکھا ہے: چوری ، شراب خوری ، جہل ظلم سے معارضہ کم فہمی ہے ۔۔۔۔۔۔ خدا کی قدرت بندہ سے زائد ہونا ضروری نہیں حالانکہ یہ کلیہ ہے کہ جو مقدور العبد ہے، مقدور اللہ ہے۔“ ( تذکرۃ الخلیل مصنفہ عاشق الہی میرٹھی ) اللہ تعالیٰ کی شان میں اس نہایت ہی ذلیل اور نہایت ہی گندے کلام میں یہ دونوں مکتب صلى الله عروسه فکر ہی دراصل خدا تعالیٰ کی ذات کے تصور کو کلیہ بگاڑنے والے ہیں۔ ایک بندوں کو اٹھا کر خدا سے ملا رہا ہے اور دوسرا خدا کو گرا کر بندوں سے ملا رہا ہے ۔ یہ خدا وہ خدا تو نہیں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر جلوہ گر ہوا تھا۔ یہ وہ خدا تو نہیں جو ساری کائنات کا خدا ہے اور ہر عیب سے پاک ہے اور بے جان چیزیں ( جن کو ہم بے جان سمجھتے ہیں وہ ) بھی دن رات جس کی حمد اور تسبیح کے گیت گاتی ہیں ۔ کہاں خدا تعالیٰ کی ذات کا یہ اعلیٰ وارفع تصور اور کہاں خدا تعالیٰ کے متعلق وہ تصورات جوان صلى الله عروسه لوگوں نے پیش کئے ۔ پس ہم تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے خدا کے قائل ہیں اور با نگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر تمہارا خداوہ خدا ہے جو تم نے لکھا ہے تو خدا کی قسم تمہارا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات کو بندوں کے سامنے مجبور کر دینے اور خدا تعالیٰ کی صفات میں عام عاجز بندوں کو شریک ٹھہرانے کے ایسے ایسے قصے بنالئے گئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ حضرت سید عبد القادر جیلانی کی کرامات کے متعلق ایک لمباقصہ بیان ہوا ہے کہ کس طرح انہوں نے بارہ سال کی ڈوبی ہوئی کشتی کو مع ان لوگوں کے جو اس میں سوار تھے، دریا سے نکال لیا۔ چنانچہ گلدستہ کرامت جو بریلویوں کی بڑی مشہور کتاب ہے اس میں ایک بڑھیا کا ذکر ہے جو اپنے اکلوتے بیٹے کی بارات لے کر آرہی تھی ۔ باراتی کشتی میں بیٹھ کر جب دریا پار کرنے لگے تو طوفان آگیا اور وہ کشتی دریا میں غرق ہو گئی ۔ بارہ سال تک وہ بڑھیا دریا کے کنارے بیٹھی رہی اور کہتے ہیں کہ پانی لینے کے بہانے وہ دریا پر جاتی تھی اور اپنے بیٹے کو رو دھو کر آجاتی تھی ۔ ایک دن حضرت عبدالقادر صاحب